خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 407
خطبات طاہر جلد 16 407 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء تعلق میں میں یہ بتادیتا ہوں کہ میں نے الگ الگ خدام الاحمدیہ انصار اللہ لجنہ یقسیمیں نہیں ہونے دینی اس کام میں کیونکہ بعض دفعہ اس طرح کام بگڑ جاتے ہیں۔کوئی انصار کے پلے پڑ گئے ، کوئی خدام کے پلے پڑ گئے، کوئی اطفال کے اور اپنے اپنے رنگ میں غلطیاں بھی کرتے رہتے ہیں اور بعض دفعہ ہلکی باتیں کر دیتے ہیں۔امیر کے شعبے میں ایک وزن ہے ، امیر کے منصب میں ایک ایسا وقار ہے جو ذیلی تنظیموں کو حاصل نہیں اس لئے امراء کا فرض مقرر کر رہا ہوں وہ مجلس عاملہ پر بیٹھیں اور چاہیں تو خدام سے آدمی لیں، چاہے انصار سے آدمی لیں اور یہ جو ہدایت تھی کہ انصار اللہ کے سپر دانصار کی حیثیت سے، خدام الاحمدیہ کے سپر د خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے امیر نے کام نہیں کرنا وہ ابھی بھی اسی طرح ہے لیکن اس تعلق میں چونکہ ان کو میں الگ الگ نہیں کرنا چاہتا ، میں سمجھا رہا ہوں کہ امیر اگر کسی صدر سے کہے کہ مجھے اس قسم کے آدمی چاہئیں تو اس صدر کا فرض ہوگا کہ اس قسم کے آدمی امیر کو مہیا کر کے دے۔اور جہاں تک کریڈٹ کا تعلق ہے یہ فضول اور ہلکی باتیں ہیں کہ خدام الاحمدیہ نے کریڈٹ لے لیا، لجنہ نے کریڈٹ لے لیا۔کریڈٹ تو اللہ دیا کرتا ہے اور جو بھی اخلاص سے خدا کے حضور اپنی جان پیش کرتا ہے، اپنا مال پیش کرتا ہے، اپنی عقل پیش کرتا ہے اس کو ساتھ ساتھ کریڈٹ مل رہا ہے اس کے لئے انتظار نہیں کیا جاتا کہ مرے گا تو کریڈٹ ملے گا۔واللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ (النور: 40) الله کے سَرِيعُ الْحِسَابِ ہونے کا یہ بھی مطلب ہے کریڈٹ کا نظام ساتھ ساتھ جاری ہے، اسی لمحے فیصلہ کرتا جاتا ہے کہ اس کو یہ مل گیا اور اس کے کھاتے میں لکھا گیا ہے مرنے کے بعد پھر اس کو سمجھ آئے گی کہ ایک ذرہ بھی ضائع نہیں گیا۔تو اس اعلیٰ نظام، اس بہی کھاتے میں آپ کا کریڈٹ جا رہا ہے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے کہ خدام کے نام الگ یا لجنہ کے نام الگ کوئی کریڈٹ گیا ہے کہ نہیں گیا۔جب بھی امیر آپ سے کہے تو بسم اللہ پڑھتے ہوئے ،اھلا و سهلا و مرحبا کہتے ہوئے اس کے حضور جتنا وہ آپ سے چاہے اتنے نفس پیش کر دیں کہ ہمارے فلاں فلاں حلقے میں یہ یہ ہے وہ آپ کے اس بتائے ہوئے کام میں خصوصی طور پر مدد کریں گے۔یہ جو جائزے کا نظام ہے ایک دفعہ جاری ہو جائے پھر مستقل نہ بھی رہے تو فرق نہیں پڑتا کیونکہ جائزہ ابتداء میں زیادہ آدمی چاہتا ہے اور اس کے لئے ہم زیادہ عہدیدار نہیں بنا سکتے ورنہ ایک Surplus چیز بن جائے گی، بیکارسی چیز کہ