خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 406
خطبات طاہر جلد 16 406 خطبہ جمعہ 6 جون 1997ء جارہا تھا بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے تجھ پر اسے پہنچا آگے۔ اب اس پیغام کا اکثر لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ کس طرح پہنچایا گیا تھا۔ اللہ مخاطب تھا محمد رسول اللہ ﷺ مخاطب تھے۔ ۔ آپ سے خطاب کیا جا رہا تھا اکیلے پیغام دے دیا اور پیغام دے کر اللہ نے درست سمجھا که محمد ﷺ کو پیغام دیا تو ساری دنیا کو پیغام دے دیا کیونکہ ساری دنیا کا رسول ہے۔ کا ہے۔ صلى صلى الله اور جب یہ کہا جا رہا ہے کہ تو اپنی رسالت کو آگے نہیں پہنچائے گا اگر تبلیغ نہیں کرے گا تو گویا اگر ساری دنیا کو تبلیغ پہنچانے کا انتظام ہو گیا ہے آنحضرت ﷺ کو فرما یا اللہ نے ۔ اب آپ سے گھر گھر پیغام اس طرح پہنچنا چاہئے۔ اکثر لوگوں کو پتا ہی نہیں اکثر ہمارے یہاں کے جونسل کے بچے ہیں ان بے چاروں کو پتا ہی نہیں کہ یہ پیغام ان کو پہنچا ہوا ہے لیکن ان تک نہیں پہنچا۔ آنحضرت ا کومل چکا ہے آگے ہم غلاموں کا فرض تھا کہ ہر ہر گھر اسی طرح پہنچائیں ، ہر گھر کے ہر فرد تک یہ بات پہنچائیں جو ہم نے نہیں پہنچائی۔ تو صرف یہی نظام اگر مقرر کریں تو دیکھیں کتنی بڑی محنت کا کام ہے۔ اس ضمن ضن میں کچھ وہ لوگ ہوں گے جو براہ راست تبلیغ نہیں کر سکتے ، کوئی بوڑھے ہیں ، کوئی بے کار ہیں بیچارے، ابھی ان کو تبلیغ سکھانا لمبا کام ہے۔ ان کو اس نظام کا حصہ تو بنایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے یہ خیال کر لینا کہ سیکرٹری تبلیغ کے اوپر بات چھوڑی اس نے آگے کر لیا یہ محض واہمہ ہے کبھی بھی نہیں ہو سکتا ۔ مرکزی سیکرٹری تبلیغ کو یہ سارا خطبہ سنا بھی دیں تب بھی وہ آگے کچھ نہیں کرے گا۔ اس میں صلاحیت نہیں ہے اور اس صلاحیت کی خاطر میں نے مجلس عاملہ کا فرض مقرر کیا ہے ۔ مجلس عاملہ کی عمومی صلاحیت کام آنی چاہئے اور یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں سیکرٹری رشتہ ناطہ ہے اور فلاں سیکرٹری فلاں ہے۔ ساری مجلس عاملہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور معین طور پر اب مقرر کر رہا ہوں کہ یہ جو باتیں میں کہوں گا آج کہہ رہا ہوں یا کل کہوں گا ان سب کی ذمہ دار ہر ملک کی مجلس عاملہ ہوگی اور امیر اس کا دماغ اور اس کا دل ہے۔ اس لئے امیر کا فرض ہے کہ وہ ان باتوں کو آگے جاری کرنا شروع کرے اور یہ ایک دن میں جاری نہیں ہو سکتیں۔ ایک دن میں ان سب باتوں کا آغاز بھی نہیں ہوسکتا ۔ آج مثلاً یہ کام شروع ہو سکتا ہے شروع کر دیں اور اللہ پر توکل رکھیں اور پھر مسلسل نظر رکھیں کہ رفتہ رفتہ لیکن لازمی اور قطعی قدموں کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھائیں۔ پس ایک جائزے کا نظام ہے وہ فوری طور پر قائم ہونا چاہئے اور اس جائزے کے نظام سے