خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 405
خطبات طاہر جلد 16 405 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء ہیں بعض ایسے بھی شامل ہونے والے ہوتے ہیں جو بستر پر پڑے دعائیں ہی کرتے ہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ شامل نہیں ہیں۔مگر اس سے زیادہ توفیق نہیں ان کی۔جن کی توفیق ہو زیادہ کی اور پھر کم کر رہے ہوں وہ شامل نہیں ہوتے۔تو جماعت کے مختلف حصوں کی توفیق طے کرنا اور جن کو کم توفیق ہوان کی توفیق بڑھانا یہ نظام جماعت کا کام ہے۔جہاں تک تو فیق کا تعلق ہے اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً ایک یہ ہے کہ گزشتہ جو خطبہ میں نے دیا تبلیغ کے متعلق تو مجھے کثرت سے ایسے خط ملے یا زبانی پیغام ملے کہ سخت دل بے قرار ہے کہ ہم بھی پوری طرح حصہ لیں مگر ہمیں پتا نہیں کس طرح حصہ لیں۔حصہ لینا نہیں آتا، دلیلیں نہیں آتیں، رابطہ کیسے آگے بڑھائیں۔خواتین ہیں وہ بھی پوچھتی ہیں اور کئی کہتے ہیں کہ ہم تبلیغ کرتے تو ہیں مگر دل کی حسرت پوری نہیں ہوتی، کوئی پھل نہیں لگتا اور یہ سارے مسائل ہیں جن کو اہل علم کو حل کرنا ہے۔نظام جماعت کا فرض ہے کہ وہ ان مسائل کو عمومی طور پر پیش نظر رکھ کر پھر انفرادی طور پر ہر شخص کی راہنمائی کرے۔یہ بہت بڑا کام ہے جو ہو نے والا ہے۔اس کا آغاز بھی پوری طرح اکثر جگہ پر نہیں ہوا تو پھر میں کیوں نہ آپ کو بار بار یاد کراؤں۔یہ تو سال کی بات ہے دو مہینے رہ گئے یا کم رہ گئے۔صدی میں کتنا وقت رہ گیا ہے باقی اور انگلی ساری صدی کو ہم نے پیغام بھیجنا ہے اپنی طرف سے کہ اے آنے والی صدی اور اس کے بعد آنے والی صدیو! ہمارے عشق اور ہماری قربانیوں نے تمہیں بھی حصہ دیا ہے اس لئے تم ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔یہ پیغام ہے جو ہماری آج کی احمدیت کی دنیا نے کل کی احمدیت کی دنیا کو دینا ہے اس لئے کمر ہمت کسیں۔اس سے پچھلی غفلتوں کو دور کریں اور کام شروع کریں مگر وہ جن کو کام شروع کرنا نہیں آتا ان کا کیا کریں اور اکثر وہ ہیں جو تبلیغ کرنا چاہتے بھی ہیں تو کام کرنا نہیں آتا۔ان کی وجہ سے میں آج نظام جماعت کو مخاطب کر کے کچھ چیزیں سمجھانا چاہتا ہوں اور اگر آج کے وقت میں نہ سمجھائی جاسکیں تو انشاء اللہ آئندہ خطبے میں اس مضمون کو آگے بڑھاؤں گا۔اب صرف تبلیغ کی ذمہ داری کا جائزہ لینا بہت بڑا کام ہے یعنی انگلستان کی مثال لے لیجیے اس بات کا جائزہ لینا کہ کون تبلیغ کر رہا ہے، کون نہیں کر رہا اور فہرستیں بنانا، ایک ایک دروازہ کھٹکھٹا نا معلوم کرنا ، پھر آگے کیسے تبلیغ کرتے ہیں یہ بعد کی بات ہے۔سب سے پہلے ایسا نظام قائم کرنا جس کے ذریعے ہر فرد بشر تک اس طرح رسائی ہو جیسے اللہ کومحمد رسول اللہ یہ تک رسائی تھی اور یہ حکم دیا