خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 404
خطبات طاہر جلد 16 404 خطبہ جمعہ 6 / جون 1997 ء جن کی خاطر میں نے کائنات کو پیدا کیا تھا آپ کو مخاطب کر کے میں کہ رہا ہوں کہ تبلیغ نہیں کرو گے تو صل الله تم رسالت کا حق ہی ادا نہیں کرو گے۔اے محمد رسول اللہ ﷺ کے غلامو! تم اپنے متعلق سوچ لو کہ تمہارا کیا حال ہوگا، تمہاری کیا حیثیت ہوگی میرے سامنے اگر تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام آگے نہ پہنچایا تو کس شمار میں ہو۔دوسرے واحد کے صیغے میں مخاطب فرمایا ہے جس کا مطلب ہے ہر شخص، ہر فرد بشر مخاطب ہے۔کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ قومی طور پر فریضہ ہے محمد رسول اللہ ﷺ کا نام لے کر مخاطب کر کے فرمایا تم ہو میرے مخاطب۔گویا آپ کی ذات کے تعلق سے جو بھی آنحضرت ﷺ کی غلامی کا دم بھرتا ہے وہ ہر ایک مخاطب ہوتا چلا جاتا ہے ایک بھی اس سے باہر نہیں رہتا۔پس سب سے پہلے تو اہمیت سمجھیں۔کئی لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہتے ہیں جی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے تبلیغ ہو رہی ہے جماعت کر رہی ہے تو ہمارا بھی حصہ سمجھ لیں بیچ میں۔آپ کا حصہ نہیں ہے۔مالی قربانی اور چیز ہے عبادتیں کرنا اور چیز ہے اور تبلیغ کو واضح طور پر پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے وہ ان ساری قربانیوں کے علاوہ تھا۔ایک ایسے وجود کو حکم دیا جا رہا ہے جو مالی قربانی میں سب سے آگے نکل گیا تھا، ایک ایسے وجود کو حکم دیا جارہا ہے جو بدنی قربانی میں سب سے آگے نکل چکا تھا مگر عبادتوں کو اس مقام تک پہنچادیا تھا کہ اس سے آگے عبادتوں کا تصور باندھا ہی نہیں جاسکتا۔اس کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے اگر تو نے یہ تبلیغ کا حق ادانہ کیا فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہ تو پھر اپنی رسالت کا ہی حق ادا نہیں کرے گا۔تو پہلے تو دماغ سے یہ کیڑا نکالیں کہ عمومی طور پر جماعت تبلیغ کر رہی ہے اس لئے کافی ہے۔ہر شخص کا فرض ہے کسی نہ کسی طرح ضرور حصہ ڈالے اور اس کے حصہ ڈالنے کی بہت سی صورتیں جماعتیں پیدا کر سکتی ہیں۔مختلف خطبوں میں میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔اب میں پھر یاد دہانی کروا رہا ہوں مگر لوگ بھول جاتے ہیں۔اب جتنے بھی خصوصیت کے ساتھ مغربی ممالک ہیں ان کی جماعتوں کا فرض ہے کہ مسلسل اس پہلو کو آپ اپنے پیش نظر رکھیں۔ہر مجلس عاملہ میں ان باتوں پر غور کریں کبھی ایک پہلو پر عمل کر کے اس کا نظام جاری کریں پھر دوسرے پہلو پر غور کر کے اس کا نظام جاری کریں۔تھکیں اور ہاریں نہیں جب تک کہ یہ نظام کلیۂ جاری نہیں ہو جاتا اور سارے احمدی ، مرد ہوں یا عورت ، بڑے ہوں یا بچے وہ اپنے اپنے رنگ میں اس میں شامل نہ ہو جائیں۔شامل ہونے کے لئے ہر ایک کی صلاحیتیں ہوا کرتی