خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 403 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 403

خطبات طاہر جلد 16 403 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء صلى الله۔اللہ ہی ہم نے جو میثاق مدینہ کیا تھا پہلے زمانے کی باتیں ہیں۔جب یہ شرطیں تھیں کہ مدینے پر اگر کوئی حملہ آور ہوا تو ہم لڑیں گے اور اگر مدینہ سے باہر ہوا تو ہم ساتھ نہیں لڑیں گے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ یہ آپ کے ذہن میں وہ بات ہے۔وہ تو گزر گئے زمانے۔آپ کو جانتا کون تھا اس وقت، کون پہچانتا تھا کہ آپ کی کیا عظمت ہے۔مطلب یہ نہیں کہ اس طرح کہا تھا مگر مراد یہی تھی۔اب جب کہ ہم آپ کے عاشق ہو چکے ہیں، آپ کی عظمت کو پہچان گئے ہیں آج ہمارا جواب یہ ہے کہ خدا کی قسم ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے، آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے، آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آر آپ کے بائیں بھی لڑیں گے۔ناممکن ہے کہ دشمن آپ تک پہنچے سوائے اس کے کہ ہماری لاشوں کو روند تا ہوا آئے اور اسے رسول اللہ ﷺ ! اگر آپ حکم دیں گے کہ سمندروں میں گھوڑے دوڑاؤ تو خدا کی قسم ہم سمندروں میں گھوڑے دوڑا دیں گے۔یہ ہے حقیقت ایمان، یہ ہے آنحضرت ﷺ کا عشق جس کا اظہار اس وقت ایسی شان سے ہوا ہے کہ کبھی دنیا میں کسی نبی کی قوم نے اس طرح اپنے نبی کو مخاطب نہیں کیا۔تو وہی ہم ہیں اور وہی محمد رسول اللہ ﷺہے ہیں۔آج بھی جہاد ہے یہ اور اصل جہاد یہی ہے کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے۔اس موقع پر کون کہتا ہے کہ طوعی چیز ہے ، مرضی ہے تو کر و مرضی ہے تو نہ کرو۔حد سے زیادہ بے وقوفی اور ظلم ہے۔آج کیا رسول اللہ ﷺ کو اکیلے چھوڑ دو گے جبکہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِم (التوبه : 33) کے دن آئے ہیں۔جب ساری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے کا وقت پہنچا ہے تو کیا تم پیچھے ہٹ جاؤ گے اور یہ سوچو گے کہ پتا نہیں ہم مخاطب ہیں بھی کہ نہیں۔ہم تو تبلیغ کر ہی رہے ہیں۔اکیلے کو مخاطب کرنے میں یہ حکمت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ ساری قوم کو مخاطب کر سکتا تھا جس کا مطلب بعض دفعہ فرض کفایہ لیا جاتا ہے۔اگر اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کی بجائے مسلمانوں کو عمومی مخاطب کرتا تو لوگ سمجھتے کہ ہم میں سے بعض تو کر ہی رہے ہیں نا ، فرض پورا ہو گیا۔مگر دو حکمتیں ہیں ایک رسول اللہ کو ذاتی طور پر مخاطب کرنے کا مطلب ہے کہ تجھ سے زیادہ بڑا کسی کا مقام نہیں، تجھ سے زیادہ مجھے کوئی پیارا نہیں ہے اگر تو بھی یہ کام نہیں کرے گا تو میری نظروں میں رد ہو جائے گا۔نعوذ باللہ من ذالک۔روہونے کا تو سوال ہی نہیں تھا مگر سننے والے کانوں کو پیغام تھا کہ غور سے سن لو کیا ہورہا ہے۔اگر آنحضرت میر