خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 402

خطبات طاہر جلد 16 402 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء اسی مضمون یعنی دعوت الی اللہ کے مضمون کو بیان کیا تھا مگر چونکہ یہ ہمار ا سال جو جلسہ سالانہ U۔K پر ختم ہو گا تھوڑا باقی رہ گیا ہے اور کام ابھی بہت باقی ہیں اس لئے گزشتہ خطبہ میں تو زیادہ تر میرے ذہن میں افریقن ممالک اور کئی مشرقی ممالک تھے جن میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت تیزی سے کام آگے بڑھ رہے ہیں اور ان بڑھتے ہوئے اور تیز رفتاری سے بڑھتے ہوئے کاموں کے تقاضے پورے کرنے کے لئے میں نے کچھ نصیحتیں کی تھیں۔اب خصوصیت سے میرے پیش نظر وہ ممالک ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں اور ان میں مغربی ممالک، جرمنی کو چھوڑ کر باقی مغربی ممالک، خاص طور پر میرے مخاطب ہیں کیونکہ تبلیغ کے کاموں میں وہ بہت پیچھے ہیں۔امریکہ ہو یا کینیڈا ہو یا یورپ کے دیگر ممالک اور یو کے جہاں یہ خطبہ ہو رہا ہے اکثر نے حقیقت میں تبلیغ کی طرف پوری توجہ نہیں دی اور سمجھتے ہیں کہ یہ زائد کام ہے۔اس غلط تصور کو توڑنے کے لئے میں نے یہ آیت آج آپ کے سامنے پڑھی ہے۔لغو اور بیہودہ خیال ہے یہ زائد کام ہے ہی نہیں۔اگر یہ زائد کام ہوتا تو آنحضرت ﷺ کو مخاطب فرما کر خدایہ نہ کہتا کہ تبلیغ کرو ورنہ تو رسالت کا حق ہی ادا کرنے والا نہیں ہوگا۔گویا تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔میں پہلے بھی خوب اس بات کو خوب کھول چکا ہوں۔اگر ادنی سی بھی عقل سے کام لے کے دیکھیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ کو اکیلے تبلیغ کا حکم تھا اور ماننے والوں کو اجازت تھی کہ تم جو چاہو کرتے پھروا کیلے محمد رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ کرنے دو۔یہ تو ویسی ہی ذلیل بات ہے جیسے موسی" کی قوم نے حضرت موسی سے کہی تھی کہ جا تو اور تیرا رب لڑتے پھر یعنی حضرت موسیٰ اور آپ کے بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں کہا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ (المائدہ: 25) ہم تو یہاں بیٹھے رہنے والے ہیں جب فتح حاصل کر لو گے تو ہمیں بتا دینا۔تو اگر چہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تو فتح دے بھی سکتا تھا لیکن انکار کر دیا اور حضرت موسیٰ کو بھی اس کی وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑی۔تو وہ عرصہ جو وعدے کا عرصہ تھا وہ گزرگیا اور پھر بھی آپ کو ارض مقدسہ میں داخل ہونے کی توفیق نہ ملی کیونکہ قوم نے ساتھ نہیں دیا تھا۔تو اب آنحضرت مے کے ساتھ دینے کا معاملہ ہے۔اس کو کون کہہ سکتا ہے کہ طوعی بات ہے۔فرض ہی نہیں بلکہ جذبات کے ساتھ اس کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ آنحضرت یی کو جب آپ نے پوچھا تھا اہل مدینہ پیش نظر تھے، پوچھا تھا کہ بدر کی جنگ میں کیا مشورہ دیتے ہو۔تو جب صحابہ سمجھ گئے اور اہل مدینہ سمجھ گئے کہ ہم مخاطب ہیں تو ایک نے ان میں سے اٹھ کر کہا کہ یا رسول صلى الله