خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد 16 400 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء قرآن کریم نے ایک ایک چھوٹی چھوٹی آیت میں عظیم الشان دائمی حکمتوں کے مضمون بیان فرما دیئے ہیں۔یہ آیت ہمیں بتا رہی ہے تم فیض کرو گے فیض، فیض کی خاطر تو یہ خیال نہ کرنا کہ وہ ڈوب جائے گا، وہ لوٹ کر آئے گا۔جس طرح تم شکر جب کرتے ہو تو میں بھی تو اس شکر کو لوٹا تا ہوں۔میں نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے گویا خدا کہہ رہا ہے کہ اے میرے بندو! یہ بات میں نے فطرت انسانی میں داخل کر دی ہے کہ تم جب ان سے احسان کا معاملہ کرتے ہو تو حقیقہ ان کا دل بھی چاہتا ہے وہ تم سے احسان کا معاملہ کریں یعنی اس سے بھی بڑھ کر جو تم نے ان پر کیا اور اس طرح یہ سلسلے دراز ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس جو آئندہ دو تین ماہ باقی ہیں ان میں خصوصیت کے ساتھ ان نصیحتوں کی طرف متوجہ ہوں امیر ممالک بھی اور غریب ممالک بھی اور اس سلسلے میں باقی باتیں آئندہ انشاء اللہ آپ سے اور بھی کروں گا لیکن اس وقت آپ کو خصوصیت سے متوجہ کر رہا ہوں کہ بقیہ دو سال میں آپ نے اپنی یہی کمائی کھانی ہے۔جتنا زیادہ احسان کریں گے اتنا ہی آپ پر احسان ہوگا۔جتنا زیادہ شکر کریں گے اتنا اللہ آپ پر شکر کرے گا اور کوئی دنیا کی طاقت آپ کے قدم روک نہیں سکتی۔وہ مولوی بیچارے کیا چیز ہیں۔ان کی حیثیت کیا ہے۔بڑبولے ہمیں پھاڑتے پھاڑتے آپ پھٹنے شروع ہوئے۔اتنا پھٹ رہے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ہر تقسیم آگے پھر تقسیم ہورہی ہے اور وہ جو دعا ئیں تھیں اللهم مزقهم کل ممزق و سحقهم تسحیقا آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں اور اس کا کوئی علاج نہیں کر سکتے ، پھٹتے چلے جارہے ہیں۔وہ ختم نبوت کی تنظیم جس نے اعلان کیا تھا کہ ہم اب لعنتیں ڈالیں گے وہ آپ پھٹ گئے یہاں۔آگے ان کی مسجدیں پھٹ گئیں کہاں اکٹھے رہ سکیں گے۔پس ان کا پھٹنا ہی آپ کی توحید کا نشان بن رہا ہے یہ پھٹ رہے ہیں آپ نہیں پھٹ رہے اس لئے کہ آپ کا خدا کی توحید سے تعلق ہے۔ایسے کڑے پر آپ نے ہاتھ ڈالا ہے کہ لَا انفِصَامَ لَهَا (البقرة: 257) اس کا ٹوٹنا ممکن ہی نہیں ہے۔پس اپنے نفس کی توحید کی حفاظت کریں اس تو حید کو جاری کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو آگے سے آگے بڑھاتا چلا جائے گا اور اس تقدیر الہی میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین