خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد 16 399 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء سے مدد مانگیں پھر ان کو سمجھائیں کہ اس تو حید کا تقاضا ہے کہ جس نے کل عالم کے بندے پیدا کئے ان کا خیال پیدا کرنے والے کی وجہ سے کرو۔ان کی خدمت اس لئے کرو کہ خدا نے ان کو پیدا کیا وہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے اور اس نے انسان کو اختیار بخش دیا ہے کہ چاہے تو کرے، چاہے تو نہ کرے۔مگر اللہ اسی کا بنے گا جو ضرورتیں پوری کرے گا کیونکہ وہ خدا نہیں بن رہا۔تو اس پہلو سے ان تحریکات میں مذہبی رنگ بھی دیں لیکن احمدیت کی طرف بلانے کی ضرورت ہی نہیں۔اسلام انہی باتوں کی طرف بلا رہا ہے اور اسلام کا نام بھی نہیں لے گا۔قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اے اہل کتاب ہم تمہیں اب اس لئے نہیں بلا ر ہے اپنی طرف کہ اپنے مذاہب کو ترک کر دو اور اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ہم اس لئے بلا رہے ہیں کہ اسلام کا اعلیٰ مقصد تو حید کا قیام ہے اور تم بھی یہی دعویٰ کرتے ہو خواہ توحید کو قائم کرو یا نہ کرو تمہاری زبان کے دعوے یہی ہیں۔یہودیت بھی تو حید کا دعویٰ کرتی ہے اور عیسائیت بھی تو حید کا دعوی کرتی ہے۔آگے تو حید کو پھاڑیں یہ الگ مسئلہ ہے۔مگر قرآن کریم نے وہاں ہاتھ ڈالا جہاں مٹھی اکٹھی تھی۔جب وہ مٹھی جھاڑو کے تنکے بن جاتی ہے تو پھر پھیل جاتی ہے تو اس کا سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ طریقہ سکھا دیا ہے ان قوموں کو اس نام پر جب آپ تحریک کریں گے کہ آؤ غریبوں کی خدمت میں ہم اکٹھے ہوتے ہیں تو یہاں خدائے واحد کا نام لینانہ بھولیں ورنہ آپ کی یہ منتیں فائدہ تو دیں گی مگر اس فائدے کو زیادہ بہتر بھی تو بنایا جاسکتا ہے۔ایک ہی چیز کی تھوڑے داموں میں زیادہ قیمت وصول کی جاسکتی ہے۔تو اپنی ان کوششوں کے نتیجے میں ان کو بھی تو حید کی طرف بلائیں اور ان سے جو کام لیں اس کے نتیجے میں جن پر یہ فیض جاری کریں ان کو بھی خدائے واحد کا حوالہ ضرور دیں کہ ہم جو تمہاری خاطر کام کر رہے ہیں اس لئے کہ تم اسی خدا کے بندے ہو جس کے سب دنیا والے بندے ہیں اس لئے کہ وہ پسند کرتا ہے کہ تمہاری خدمت کی جائے۔یہ احساس اگر آپ پیدا کر دیں تو یہ ساری تنظیمیں ایسی ہوں گی جو دن بدن خدا کی طرف زیادہ توجہ دیں گی۔عبادت میں ترقی کریں گی اور روحانیت میں ترقی کریں گی اور ان کا فیض وہ ہے جو آپ کی طرف سے پہنچے گا اور پھر آپ کو بھی پہنچے گا۔یہ فیض کی عجیب بات ہوتی ہے۔یہ لوٹ کر آیا کرتا ہے۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: 61)