خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 383 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 383

خطبات طاہر جلد 16 383 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء رسول اللہ اللہ کو دیا گیا اور جن کے آخرین غلاموں کو خدا نے یہ اعزاز بخشا تھا کہ ان کے ذریعے یہ عظیم الشان وعدے پورے کئے جائیں۔پس ہونے تو ہیں اور لازما ہوں گے لیکن سابقہ حساب سے نہیں ہوں گے کہ آج سو کا اضافہ ہوا، کل ہزار کا یا پانچ سو کا۔وہ دگنے والا حساب ہی ہے جو چلے گا اور اسی سے ہم انشاء اللہ بڑھتی ہوئی دنیا کے قدم روک لیں گے اور ان سے آگے نکل کر ان کو گھیرا ڈال سکتے ہیں۔اگر یہ دگنے کا نظام آپ تبلیغ میں اور تربیت میں نہ چلائیں تو ناممکن ہے کہ جماعت احمد یہ اپنی موجودہ تعداد کے باوجود دنیا تو در کنار کسی ایک ملک کو بھی فتح کر سکے۔پاکستان کی آبادی بھی آپ سے بہت زیادہ آگے نکل چکی ہے اور وہ آپ کو تعداد کے لحاظ سے اس طرح حقارت سے نیچے منہ کر کے دیکھتے ہیں جیسے کوئی کیر از مین پر چل رہا ہو اور واقعہ مولویوں کے دماغ میں جو تکبر ہے وہ اسی وجہ سے ہے آپ چھوٹے ، بے معنی ، بے حقیقت دکھائی دیتے ہیں ان کو۔وہ سمجھتے ہیں ایک پاؤں اٹھانے کی بات ہے ہم ان کو کچل دیں گے، حکومتوں میں بڑی بڑی طاقتیں آچکی ہیں ، ان کے ہتھیار بدل چکے ہیں ، ان کو بیرونی قوتوں کے سہارے حاصل ہیں۔پس اگر وہ غیر معمولی طور پر مخالفت نہیں کرتے تو ان کی کوئی شرافت نہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے جس نے ان کے ہاتھ روکے ہوئے ہیں اور اگر شرافت کی وجہ سے ہے تو پھر اللہ ان کو جزا بھی بخشتا ہے۔دونوں صورتیں ممکن ہیں کیونکہ شرافت ہو یا نہ ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا نے کس شرافت کے نتیجے میں بچایا تھا۔فرعون اور اس کی قوم میں تو کوئی شرافت نہیں تھی۔انہوں نے تو ہر قیمت پر ان کی پیروی کا فیصلہ کیا تھا ان کو پیچھے سے جا پکڑنے کے عہد باندھ کر نکلے تھے اور بڑی طاقت اور بڑے غیر معمولی دبدبے کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چند غلاموں پر جو آپ کے پیچھے چل رہے تھے ان پر حملہ کر کے ان کو نیست و نابود کرنے کے ارادے کئے ہوئے تھے۔کیا ہوا ان کا۔وہ دولہریں جو دونوں طرف سے اٹھی ہیں پہاڑوں کی طرح انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دی۔وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضُهُم بِبَعْضٍ (البقرة:252) یہ مضمون تھا جو سکھایا گیا کہ بعض دفعہ تمہیں مخالفتوں کی بڑی دفعہ طاقتور پہاڑوں کی طرح اٹھتی ہوئی لہریں دکھائی دیتی ہیں۔مگر خدا ان کو آپس میں ٹکرا دیتا ہے، ان کے سائے تلے سے اپنے معصوم بندوں کو گزار دیتا ہے اور وہ جو دوسرے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ان پر جا پڑتی ہیں اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہیں۔پس وہ باتیں جو خدا نے ظاہری شکل میں یا