خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 382
خطبات طاہر جلد 16 382 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء میں بھی تصور نہیں آسکتا تھا اب حقیقت کے طور پر ہمیں سامنے رونما ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ایک زمانہ تھا، بہت پہلے کی بات ہے کہ میں سوچ کر خواب میں چٹخارے لیا کرتا تھا کہ کبھی ایک لاکھ ایک سال میں بھی احمدی ہوں گے اور اب یہ ایک لاکھ تو لگتا ہے یہ سامنے یونہی پڑے ہیں، سامنے بکھرے پڑے ہیں۔اب ملینز Millions کی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔وہ ممالک جہاں چند ہزار کے قصے ہوتے تھے تو بہت فخر سے وہ سر اونچا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں اب سینکڑوں سے نکل کر ہزاروں میں باتیں شروع ہو گئی ہیں۔اب وہ لاکھوں سے نکل کر Half a Million کی باتیں کر رہے ہیں اس سال آدھا ملین تو ہمارا ہونا چاہئے۔تو اتنی تیزی سے اللہ تعالیٰ نے پیمانے بدلے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور جس تیزی سے پیمانے بدل رہے ہیں اسی تیزی سے ذمہ داریاں بھی ساتھ بڑھ رہی ہیں اور ساتھ ساتھ مجھے آپ کو بتانا پڑتا ہے، سمجھانا پڑتا ہے کہ کوئی ایسی فکر کی بات نہیں ہے۔یہ ذمہ داریاں اگر سلیقے کے ساتھ، قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کریں گے تو جتنا چاہے معاملہ پھیلتا چلا جائے آپ کی وسعت بھی اللہ تعالیٰ ساتھ ساتھ بڑھائے گا اور ان پھیلتے ہوئے کاموں کو آپ سمیٹنے کی نئی طاقتیں اللہ تعالیٰ سے حاصل کریں گے۔یہ وہ مضمون ہے جس کے لئے آپ کو کئی دفعہ، بار بار توجہ دلانی پڑتی ہے۔خصوصاً جرمنی کے دورے میں جماعت احمدیہ کو مجھے بہت سمجھانا پڑا وہ بعض باتوں میں گھبرا گئے تھے کہ ہم اتنا بڑھ رہے ہیں، اتنا پھیل رہے ہیں کریں گے کیا سنبھالیں گے کیسے۔جب ان کو بتایا کہ دیکھو یہ طریقہ ہے سنبھالنے کا تو سارے مطمئن، سب خوش ہوئے اور جنہوں نے عمل کیا ہے وہ رپورٹیں بھیج رہے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں ڈالی ہیں وہ سمجھائی بھی ہوئی ہیں قرآن کریم میں اس کے تذکرے موجود ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ان پر عمل کر کے دکھا دیا۔پس ساری دنیا کے اصلاح اور تربیت اور تبلیغ کے پروگرام ہوں اور ہم قرآن اور رسول کی سنت سے تعلق کاٹ کر اپنی عقل سے ان کو سلجھانے کی کوشش کریں تو ہو نہیں سکتا ، ناممکن ہے۔وہ خدا جس نے آنحضرت ﷺ کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء: 108) بنایا ہے اس کی طاقت میں ہے کہ اس دور میں لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّه (الفتح: 29) کے نظارے بھی دکھائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلاموں کو توفیق بخشے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کریں جن کا وعدہ محمد صلى الله