خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد 16 377 خطبہ جمعہ 23 مئی 1997ء ہوں کہ یہاں اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور واقعہ وہاں عبادت ہو۔ جھونپڑے سے مراد یہ ہے کہ چھت تو ہونی چاہئے جس سے بارش اندر نہ آئے یا برف نہ پڑے اندر۔ مگر یاد رکھیں کہ آنحضرت ﷺ کی جو صلى الله مسجد تھی اس مسجد کا یہ حال تھا کہ بعض دفعہ بارش ہوتی تھی تو چھت میں سے پانی ہی نہیں بلکہ کیچڑ بھی ی حال تھا کہ تو میں سے پانی ہی نہیں بلکہ سے پانی بھی اترا کرتا تھا اور نیچے مسجد کچی ہونے کی وجہ سے سجدہ کرتے وقت لوگوں کی پیشانیوں پر کیچڑ لگ جایا کرتا تھا۔ مگر اسی حالت میں وہ مسجد تھی جو دنیا کی سب مساجد میں سب سے اوپر کی ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی صلى الله مسجد۔ تو اس طرح آغاز کریں یعنی اس رسول کی سنت پر چلتے ہوئے آغاز کریں جس رسول کی سنت پر آپ نے دنیا کو اکٹھے کرنا ہے اور جس کی سنت پر چلتے ہوئے آپ نے اللہ کے گھر بنانے ہیں صرف اللہ کی خاطر۔ پس خدا کرے کہ آپ کو یہ توفیق ملے کہ صدی کے آخر پر ہم یہ اعلان کر سکیں کہ جماعت جرمنی کو توحید کے دو تقاضے پورے کرنے کی توفیق ملی ہے۔ ایک یہ کہ ایک لاکھ احمدی یورپ میں توحید کے علمبردار اس آخری سال میں ہم نے بنائے ہیں اور ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کے نام پر اسی کی خاطر سو مساجد کی ہم نے تعمیر کر دی ہے اور اس میں جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے سیدہ بشری بیگم مہر آپا کا ایک مستقل حصہ ہوگا۔ گویا ہر مسجد میں ان کی طرف سے کچھ نہ کچھ ہوگا اور میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے ساتھ شامل ہو جاؤں گا۔ تو اللہ کرے کہ ہمیں یہ توفیق عطا ہو۔ آپ میں سے بہت سے ہیں میں جانتا ہوں جن میں غریب بھی ہیں ، امیر بھی ہیں مگر جماعت جرمنی میں جو مالی قربانی کی روح پیدا ہو چکی ہے وہ عظیم الشان ہے اور اس قربانی کی روح کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ اپنی توفیق سے بڑھ کر وعدے نہ کریں۔ یاد رکھیں کہ توفیق سے بڑھ کر وعدہ کرنا مومن کو زیب نہیں دیتا لیکن توفیق بڑھنے کی دعائیں کرتے رہیں ۔ اتنا وعدہ کریں جس کی توفیق ہو اس کو پورا کریں اور پھر اور توفیق بڑھنے کی دعا کریں۔ پھر اللہ اور عطا کرے گا اور یہ میرا تجربہ ہے زندگی کا کہ ہمیشہ اسی طرح ہوتا ہے۔ اپنی توفیق کے مطابق دیانتداری سے، اخلاص کے ساتھ اپنا حساب کرتے ہوئے ، یہ دیکھتے ہوئے کہ کہاں سے رقم لینی ہے پھر وعدہ کریں تا کہ وعدہ جو ہے محض فرضی وعدہ نہ ہو۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ فرضی وعدہ کر لو اور ہاتھ پلے کچھ ہوتا نہیں لاکھ لاکھ، دس دس لاکھ کے وعدے کر بیٹھتے ہیں اور پہلے