خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 376

خطبات طاہر جلد 16 376 خطبہ جمعہ 23 مئی 1997ء اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ میری طرف سے آپ کو اختیار ہے کہ اپنی ضرورت پڑے اور کوئی قرض لینا ہو میرے حساب میں سے تو مجھے لکھنے کی ، اجازت لینے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ، آپ پر مجھے کامل اعتماد ہے جو چاہیں لیں جب چاہیں واپس کریں۔ اس حیثیت سے میں نے ان کی جائیداد کا انتظام سنبھال لیا اور وفات کے وقت تک جو بھی ان کی وصیت کا حساب تھا یعنی اس کے علاوہ جو وصیت تھی صدر انجمن کے حق میں وہ دیدی گئی ہے۔ اب جو بقیہ جائیداد ہے وہ انہی شرطوں کے ساتھ میرے قبضہ میں یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے امین بنایا ہے، میرے سپرد ہے۔ چونکہ انہوں نے مجھے اجازت دی تھی کہ اپنی ضرورتوں کے لئے قرض لے لیا کروں، میں نے اس میں سے کبھی قرض لئے ، واپس کر دیئے، پھر لئے ۔ آج صبح فون کے ذریعہ، یعنی کل میں نے پیغام دیا تھا، آج صبح فون کے ذریعہ اب مجھے یہ تسلی بخش پیغام مل گیا ہے کہ جو بھی قرضہ میں نے ان سے لیا تھا وہ پائی پائی ادا ہو چکا ہے اس میں سے کچھ باقی نہیں رہا۔ اس لئے جو کچھ ان کے پاس باقی ہے اس کی دو شکلیں ہیں۔ ایک میں وقتا فوقتاً کچھ یورپ منتقل کرواتا رہا اور کچھ جائیداد کی صورت میں پاکستان میں ہی ہے جس میں سے آمد ہوگی ۔ چونکہ یہ تو حید کا اعلان جس کا میں ذکر کر رہا ہوں اس کا مساجد کی تعمیر سے بھی تعلق ہے۔ اس لئے سیدہ مہر آپا کی وفات کی اطلاع چونکہ مجھے جرمنی میں ملی ہے اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی طرف سے جو روپیہ یہاں موجود ہے اس میں سے اور کچھ باہر سے منگوا کر تین لاکھ جرمن مارک جماعت احمد یہ جرمنی کے سپرد کر دوں گا جس کا مطلب یہ ہے کہ سو مساجد کی جو تحریک ہے اس میں سے ہر سو میں سے تین ہزار ان کی طرف سے ہوگا اور سر دست اپنی طرف سے پچاس ہزار مارک پیش کرتا ہوں اور اللہ توفیق دے گا تو انشاء اللہ اس کو بڑھا بھی دوں گا تو آئندہ تین سال میں یہ پورا ہو جائے گا۔ اس لئے جماعت جرمنی کو جو توحید کے نشان کے طور پر مسجدیں بنانا ہے اس کی آج میں سیدہ مہر آپا کی وفات کے ساتھ تحریک کرتا ہوں ۔ اس کے لئے الگ انتظام کریں چندوں کا ۔ جس کو جتنی توفیق ہے وہ دے اور کوشش کریں کہ اس صدی کے آخر تک، یعنی آخری سال تک جماعت احمد یہ کی طرف سے ایک سو مساجد جرمنی میں یا بنائی جا چکی ہوں یا ان کے لئے زمینیں لے لی گئی ہوں اور اس پر خواہ جھونپڑا ہی بنانا پڑے ایک جھونپڑا بنا کر اور مینار کا Symbol بنادیں تا کہ ہم یہ کہہ سکتے