خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 375

خطبات طاہر جلد 16 375 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء میں ان کو حساب پیش کرنے کا پابند نہیں ہوں گا۔ان کو یقین تھا ، رہے گا کہ میں جو بھی کروں گا درست کروں گا اور ان کی جائیداد کو ایسے سنبھالوں گا کہ بفضلہ تعالیٰ باقیوں سے بہتر ہوگی ، کم تر نہیں ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے ایک وصیت لکھی جو بہت پہلے کی بات ہے، ملک سیف الرحمن صاحب اس وقت زندہ تھے، اس وصیت میں انہوں نے یہ لکھا کہ میں اپنی جائیداد کو پانچ حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہوں۔ایک حصہ جماعت احمدیہ کے لئے ہوگا، ایک حصہ مرزا طاہر احمد کے لئے ہوگا، تین حصے میرے تین بھائیوں کے لئے ہوں گے اور بہن آپا ناصرہ جو تھیں ان سے وہ اجازت لے چکی تھیں کہ وہ از خود خوشی کے ساتھ اس وصیت کو قبول کرتی ہیں۔میں نے ان کو سمجھایا اور مختلف حوالے دے کر آخر رضامند کر لیا کہ آپ میرا حصہ بیچ میں سے نکال دیں جہاں تک بھائیوں کا تعلق ہے آپ کی مرضی ہے رکھیں ، مرضی ہے نہ رکھیں۔چنانچہ انہوں نے میری یہ بات منظور فرمالی اور میرا پانچواں حصہ نکال لیا لیکن کچھ عرصہ کے بعد دو بڑے بھائی ان کے، یعنی اپنے سے چھوٹے تھے مگر ایک بڑا بھائی اور ایک سب سے چھوٹا بھائی یہ دونوں فوت ہو گئے۔اس وقت پھر ان کے دل میں از خود خیال آیا کہ کیوں نہ میں سب کچھ جماعت کے لئے چھوڑ دوں اور بھائیوں کے لئے یا بہنوں کے لئے کچھ نہ رکھوں۔انہوں نے مجھے پھر خط لکھا کہ میری اب یہ خواہش ہو رہی ہے۔میں نے کہا دیکھیں شریعت کو آپ نظر انداز نہیں کر سکتیں۔جو چاہیں کریں، جو اللہ تعالیٰ نے شریعت کا حق عطا فرمایا ہے اس کو آپ نہیں لے سکتیں۔اس لئے میں تب آپ کی بات مانوں گا اگر آپ اپنے بھائی سے لکھوائیں اور اپنی بہن سے لکھوائیں کہ ہم بقائمی ہوش و حواس پوری طرح اپنے حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم حضرت مہر آپا کی جائیداد میں سے نہ اب نہ آئندہ کسی چیز کے بھی نہ خواہشمند ہیں، نہ دعویدار ہیں اور ان کو ہماری طرف سے بخوشی اجازت ہے کہ وہ سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیں۔چنانچہ اس پر انہوں نے پھر مجھے خوشی سے زبانی بھی بتایا اور لکھا بھی کہ اب میں یہ ساری جائیداد آپ کے سپرد کرتی ہوں ان شرطوں کے ساتھ نمبر ایک، جب تک آپ کو توفیق ہے آپ ہی انتظام رکھیں۔میرے بھائیوں میں سے یا بہنوں میں سے، خاص طور پر بھائی کے متعلق فرمایا کہ اگر اس کی کوئی ضرورت ہو تو آپ کو حق ہے کہ اس جائیداد میں سے جو میں جماعت کے سپر د کر رہی ہوں ان کو دیدیں اور میری ضرورتیں جب تک میں زندہ ہوں اسے پوری کر دیں۔اس کے سوا مجھے