خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد 16 374 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء کے آخر تک سومساجد بنانے کی توفیق عطا ہو۔اس ضمن میں میں ابھی پھر واپس اس بات کی طرف آتا ہوں کہ اس سے پہلے میں آپ کو ایک غم کی خبر بھی سنانا چاہتا ہوں اور اس میں ایک خوشی کی یعنی بشری کی خبر بھی موجود ہے۔ہماری وہ والدہ جو اس وقت حضرت مصلح موعود کی بیگمات میں سے دو زندہ تھیں جن میں سے ایک وہ آپا بشری یا سیدہ مہر آپا ہیں کل ان کے وصال کی خبر آئی ہے۔وہ میرے ماموں عزیز اللہ شاہ صاحب کی صاحبزادی تھیں اور غالباً جہلم میں یا مجھے اب یاد نہیں مگر اتنا مجھے پتا ہے کہ 1919 ء اپریل میں آپ پیدا ہوئیں اور میری والدہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی بعض خوش خبریوں کے نتیجے میں حضرت مصلح موعودؓ نے ہم بچوں کی خاطر ان سے شادی کی یعنی میں اور میری تین بہنیں تھیں اور حضرت مصلح موعودؓ کی خواہش تھی کہ اپنے خاندان کا ہی یعنی میری امی کے خاندان کا ہی کوئی شخص ہماری نگہداشت کرے۔چونکہ ان کے متعلق ڈاکٹروں کا یہ فیصلہ تھا کہ ایک بیماری کی وجہ سے ان کے بچہ نہیں ہوسکتا اس لئے حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بھی سوچا کہ ایک ایسی ماں ان کو ملے گی جس کے پاس اپنے الگ بچے نہیں ہوں گے مجبور اوہ انہی سے پیار کرے گی اور اسی وجہ سے آپ کا نام مہر آپارکھا گیا جس کا آپ کی ایک رؤیا یا الہام سے تعلق تھا کہ ایسی آپا جو مہر بن جائے۔اب مہر امی نہیں فرمایا، مہر آپا اور واقعہ ہم سب کا تعلق آپ سے آپا ہی کی ایک قسم کا تھا مگر مہر والا تعلق کم سے کم میں اپنی ذات میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میرا ان سے تعلق ہمیشہ مہر کا رہا یعنی محبت اور پیارکا تعلق۔بہر حال آخری عمر میں ان کو بعض ایسی تکلیفیں لاحق تھیں جن کے نتیجے میں یہ زندگی اجیرن ہو گئی تھی اس لئے ان کا جانا ان کے لئے رحمت تھا اور ان کے لئے بھی جو اس تکلیف کو دیکھتے اور تکلیف کو محسوس کرتے تھے بہر حال آپ نے جانا تھا 78 سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو واپس بلایا۔ان کے متعلق آج جو میں اعلان کر رہا ہوں اس کا اس مضمون سے تعلق ہے جو میں ابھی آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں۔سیدہ مہر آپا مختلف وقتوں میں مختلف وصیتیں کرتی رہیں کیونکہ اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لئے ان کی نظر اپنے بھائیوں پر، بہنوں پر اور ان بچوں پر پڑتی رہی جو ان کے گھر میں پلتے تھے۔اپنی جائیداد کا سارا انتظام انہوں نے میرے سپرد کر دیا تھا اور اس بارے میں کامل یقین تھا یعنی خلافت سے بہت پہلے کی بات کر رہا ہوں۔مجھ پر، میری ذات پر کامل یقین تھا اور یہ شرط تھی کہ