خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد 16 369 خطبہ جمعہ 23 مئی 1997 ء نہیں سکتے مگر رفتہ رفتہ یہ سمجھنے لگیں گے اور کچھ کچھ ان کو سیاہ رنگ کا بھی حسن دکھائی دینے لگا ہے۔ مگر جانوروں میں دیکھو ان کو دکھائی دیتا ہے بالکل سیاہ مرغی یا بالکل سیاہ پرندہ اور بالکل سفید مرغی اور بالکل سفید پرندہ یہ اپنے اپنے حسن رکھتے ہیں اور کوئی سفید مرغی کسی کالی مرغی کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ جاؤ کو یہ کہ جاؤ تمہارا تو رنگ کالا ہے ، وہ آگے سے برابر طور پر یہ کہہ سکتی ہے جاؤ جاؤ تمہارا تو رنگ ہی کوئی نہیں، چٹی سفید ، کچھ بھی نہیں تمہارے اندر۔ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں توحید باری کا اعلان کے صلى الله صلى الله کا اعلان کروایا محمد رسول اللہ ﷺ سے، وہاں یہ اعلان بھی ساتھ کروایا کہ تو کہہ دے کہ رنگ اور زبانوں کے فرق یہ میرے اللہ نے پیدا کئے ہیں خبردار رہو جو تم نے ان پر ہاتھ ڈالا۔ سفید فاموں کو سفید فام رہنے دو۔ خوشی سے تم سے تعلق زوجیت قائم کرتے ہیں تو کریں نہیں تو نہ کریں۔ ان کی زبانوں کو بھی نہیں چھیڑنا۔ ہر ایک کی زبان کا احترام کرو اس کی عزت کرو لیکن اس کے باوجود ان کو بتاؤ کہ یہ خدا ہی کی شان ہے توحید باری تعالیٰ کی کہ وہ اس طرح مختلف رنگوں میں جلوہ گر ہوئی ہے اور مختلف رنگ صفات کے جب ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں تو پھر وہ صفات ابھرتی ہیں جو الہی صفات لا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ کی صفات ہیں ۔ پس آنحضرت ﷺ کی ذات میں ایک نبی ہونا اور کل عالم کا اکٹھا ہونا دیکھو قرآن کریم نے کس کس طریق سے سمجھایا۔ اس کے سارے پہلو آپ پر روشن کر دیئے لیکن یاد رکھیں صفات کے سوا یعنی خدا کی صفات کے سوا جن کا رنگ الگ الگ نہیں ہے خدا کی صفات کے سوا جن کی زبان الگ الگ نہیں ہے وہ ایک ہی رنگ اور ایک ہی زبان رکھتی ہیں ساری دنیا کو آپ مختلف زبانیں بولنے والوں کو مختلف رنگوں کے لوگوں کو آپ ایک ہاتھ پہ اکٹھا نہیں کر سکتے ۔ پس یہ صفات ہیں کیا ؟ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ خلافت کو آپ دیکھیں کہ سب دنیا کی خلافت ہو ہی نہیں سکتی اگر کسی ایک قوم سے تعلق رکھتی ہو لیکن جو حضرت محمد مصطفی ماہ کا خلیفہ یا آپ کے خلیفہ کا خلیفہ ہو اس کے اندر خدا تعالیٰ کی وہ صفات ضرور جلوہ گر ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں رنگ ونسل کو اپنی جگہ دیکھتا ہے مگر بری، غیر کی نظر سے نہیں دیکھتا اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔ جیسے خدا کالے کو اپنا سمجھ کے دیکھتا ہے، جیسے خدا جرمن بولنے والے کو اور انگریزی بولنے والے کو اور سپینش بولنے والوں کو اپنا سمجھ کے دیکھ اور سن رہا ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ وقت کو خدا تعالیٰ وہ الہی صفات عطا فرماتا ہے جو کل عالم کو ایک ہی رنگ میں دیکھنے لگتی صلى الله ۔