خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 350

خطبات طاہر جلد 16 350 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997 ء مطلب نہیں ہو گا کہ آپ اللہ کی صفات بیان کرتے ہیں ۔ وہ رَبِّ الْعَلَمِينَ ہے اور عالمین کو بھول جاتے ہیں اور ان کی ربوبیت سے اپنا تعلق توڑ لیتے ہیں۔ یہ جاہلانہ تصور بع نہ تصور بعض مذاہب میں پیش کئے جاتے ہیں۔ جن کا خدا سے تعلق ٹوٹ چکا ہے کہ ہر چیز سے اپنا تعلق تو ڈلو یہ تمہاری نجات کا موجب ہوگا ، یہ اطمینان کا موجب ہوگا۔ ہرگز اطمینان ہر چیز سے تعلق توڑنے سے نہیں بلکہ تعلق کی وجہ درست کرنے سے ہوتا ہے۔ اگر کسی محبوب کے پیاروں سے آپ کو پیار ہو محبوب کے حوالے سے، تو جب تک وہ پیارے اس کو پیارے ہیں آپ کو پیارے لگیں گے۔ جب اس کو پیارے ندر ہیں تو کیسے آپ کو پیارے لگ سکتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو اٹھاتے ہوئے ایک مثال دی ہے کہ وہ شخص جو کسی سے پیار کرتا ہے اس کے بچوں سے بھی پیار کر رہا ہوتا ہے۔ اگر اس کے بچے اس کو * دکھ دیں تو جو اس سے پیار کرتا ہے اس کا تعلق ان بچوں سے اسی طرح کٹنا شروع ہو جائے گا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے ولی ہیں، جو اللہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، جن کو ہمیشہ کی طمانیت اپنے رب کی ذات میں نصیب ہوتی ہے ان کے ساتھ اللہ کا بھی ایک ایسا ہی تعلق بن جاتا ہے۔ پھر ان کی خاطر اللہ تعالیٰ ان سب سے دشمنی کرتا ہے جو ان کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ ان کی خاطر اللہ تعالیٰ ان سب سے محبت کرتا ہے جو ان سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ تو اب دیکھیں یہ اللہ والے لوگ یہی تو وہ ہیں جن کا دل خدا سے اطمینان پاتا ہے۔ مگر ان کے کہنے کی بات نہیں رہتی ان کی علامتیں دنیا میں ظاہر ہونے لگتی ہیں اور خدا تعالیٰ دنیا کی توجہ ان کی طرف پھیرتا ہے۔ جوان سے پیار کرتے ہیں اللہ ان سے پیار کرنے لگتا ہے۔ جو ان کے دشمن ہو جاتے ہیں اللہ ان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب مباہلے کے چیلنج دیئے تو دراصل قرب الہی کی نشانی مباہلہ بن جاتا ہے۔ یہ بتانا مقصود تھا کہ اگر تم میرے دشمن ہو اور اب میں دعا کرتا ہوں کہ اے خدا ! جو میرے دشمن ہیں تو ان کا دشمن بن کے دکھا تو پھر دیکھنا کہ خدا تعالیٰ تم سے کیا سلوک کرتا ہے۔ مگر بسا اوقات خدا کے تعلق والے نہیں چاہتے کہ اللہ دوسروں سے ناراضگی کا سلوک کرے۔ پس مباہلے کی حالت اور اس حالت ؟ احالت اور اس حالت میں ایک فرق ہے۔ آنحضرت یہ بھی مسلسل خدا کو اتنے