خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 344

خطبات طاہر جلد 16 344 خطبہ جمعہ 16 رمئی 1997 ء ہیں۔یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ فرمایا گیا۔الَّذِينَ آمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ الله اور پھر یہ فرمایا گیا کہ ذکر اللہ سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔تو یہ دو باتیں ہیں تو جولوگ ایمان لاتے ہیں اللہ کے ذکر سے ان کے دلوں کو اطمینان پانا چاہئے ، یہ مضمون ہے جسے اطمینان قلب کی حقیقت سمجھنے کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔ہر انسان یہ کہ سکتا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دل اطمینان پاتے ہیں مگر کتنے ہیں جو اللہ کے ذکر سے واقعہ دلوں کا اطمینان حاصل کرتے ہیں۔پس اس آیت میں جو دو بظاہر الگ الگ باتیں کی گئی ہیں وہ ہیں ہی الگ الگ۔مراد یہ ہے کہ اگر چہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان پانا چاہئے مگر کم ہیں جواللہ کے ذکر سے دلوں کا اطمینان پالیتے ہیں۔پس وہ جو اللہ کے ذکر سے دلوں کا اطمینان پالیتے ہیں وہی ہیں جنہیں نفس مطمئنہ عطا ہوتا ہے۔اب یہ جو مسئلہ ہے اسے عام زبان میں جسے سب لوگ سمجھ سکیں کچھ کھول کر بیان کرنا ضروری ہے۔ہر شخص کو دل کا اطمینان نصیب ہونے کا ایک تجر بہ ضرور ہے، ہر شخص کا دل کسی نہ کسی چیز سے اطمینان پاتا ہے۔اب آپ نے کوئی مقصد اپنی زندگی کا بنارکھا ہے، کسی کو دولت چاہئے، کسی کو اچھا مکان چاہئے، کسی کو اچھی سواری چاہئے ،کسی کو اچھا گھر چاہئے یا گھر سے باہر کی لذتیں درکار ہیں۔یہ ساری خواہشات ہیں جن کے پورا ہونے سے دل اطمینان پاتا ہے اور بظاہر یہ بات درست نہیں لگتی کہ اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ خبردار صرف اللہ کا ذکر ہے جس سے دل اطمینان پاتا ہے۔انسان اپنے روزمرہ کی سوچ میں اور روزمرہ کے تجربے میں یہ بات دیکھ رہا ہے کہ جو چیز اسے چاہئے ، جو چیز وہ چاہتا ہے، جس کی اس کو طلب ہے جب مل جاتی ہے تو اسے اس میں اطمینان نصیب ہو جاتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کیا مطلب رکھتا ہے کہ اللہ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے دل کو طمانیت نصیب نہیں ہو سکتی۔ایک یہ پہلو ہے جس کو آپ خوب اچھی طرح غور کر کے سمجھ لیں۔دنیا میں جتنی بھی خواہشات آپ رکھتے ہیں، ہر قسم کی خواہشات ، اس میں نیکی بدی ہر چیز کی خواہش ہے اس کے پورا ہونے پر آپ کا دل مطمئن ہوتا ہے۔یہ آپ کا تجربہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور تجربہ بھی ہے کہ کچھ دیر دل اس پر مطمئن رہتا ہے پھر مطمئن نہیں رہتا پھر مزید کی ہوس دل کو بے چین کر دیتی ہے۔جو لوگ تاجر ہیں ان کو اگر اپنی تجارت کی زندگی کے آغاز کے ساتھ موجودہ کامیابیوں کا مقابلہ کرنے کی توفیق ملے تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ وہ جب شروع شروع میں