خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 29
خطبات طاہر جلد 16 29 29 خطبہ جمعہ 10 /جنوری 1997ء بے حیائی سے باز نہیں آرہے۔پس ہمارے لئے یہ سال یا اس سے اگلا سال ملا کر ان سب کو ایسا فیصلہ کن کر دے کہ یہ صدی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دشمن کی پوری ناکامی اور نامرادی کی صدی بن کر ڈوبے اور نئی صدی احمدیت کی نئی شان کا سورج لے کر ابھرے۔یہ وہ دعائیں ہیں جو اس رمضان میں میں چاہتا ہوں کہ آپ بطور خاص کریں اور رمضان کے بعد بھی ہمیشہ ان دعاؤں کو اپنے پیش نظر رکھیں۔لیکھرام کا میں نے ذکر کیا تھا۔یہ عجیب ہے ایک اور اتفاق کہ لیکھرام بھی 1897ء میں ہی ہلاک ہو کر ایک عبرت کا نشان بنا تھا اور یہ 1997 ء ہے جس میں ہم یہ بات کر رہے ہیں۔یعنی 1897ء کا تکرار ہے۔سو سال پہلے لیکھر ام عبرت کا نشان بنا تھا اور آج سوسال کے بعد میں پھر لیکھر اموں کی ہلاکت کے لئے آپ کو دعا کرنے کی طرف متوجہ کر رہا ہوں اور یہ کسی سوچی کبھی تدبیر کے مطابق نہیں ہوا۔مولویوں کے متعلق بھی مجھے یاد دہانی ربوہ سے آئی ہے اور اس وقت میرے ذہن میں ہرگز کوئی مضمون نہیں تھا کہ رمضان سے پہلے اپنے خطبے میں ان کا نام تک لوں لیکن لیکھرام کے متعلق گزشتہ جمعہ پر افتخار ایاز صاحب نے جو سوال و جواب کی مجلس میں میری مدد کر رہے تھے انہوں نے پوچھا لیکھرام کے متعلق کہ 1997ء آ گیا ہے جو 1897ء کے نشان کی یاد دلاتا ہے۔تو میں نے ءآ کہا میں اگلے جمعہ پر اس کا تفصیلی جواب حوالے دے کر دوں گا لیکن بعد میں مجھے خیال آیا کہ اس سوال و جواب کی مجلس کا موقع نہیں یہ تو ساری دنیا کو یاد دلانے کی بات ہے کہ 1897ء میں لیکھر ام ایک حیرت انگیز عبرت کا نشان بنا ہے۔اس کی ساری تعلیاں جھوٹی نکلیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری باتیں سچی نکلیں۔پس اس پہلو سے یہ سال ایک اور بھی نشان لے کر آیا ہے اور یہ ساری باتیں اکٹھی ہو کر اس سال کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہیں۔اور مزید ایک آخری بات یہ کہ آئی دفعہ دفتر سے پرائیوٹ سیکرٹری صاحب نے مجھے یاد دلایا کہ جو آپ نے پہلا مباہلے کا چیلنج دیا تھا وہ بھی Friday the 10th کو دیا تھا اور آج بھی Friday the 10th ہے۔تو یہ عجیب بات ہے۔یہ تمام امور وہ ہیں جو میری سوچ کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ یہ تقدیر الہی کی طرف سے ایسا ہوا ہے کہ ساری باتیں اکٹھی ہو گئیں۔عام طور پہ کہتے ہیں اتفاقات ہوئے۔میں اتفاقات کا نام نہیں لے رہا۔یہ ساری باتیں تقدیر الہی سے اکٹھی ہوئیں اور مجھے یاد دلانے کے لئے کوئی ربوہ سے خط آیا، کوئی یہاں سے بات پیدا ہوئی اور کوئی گزشتہ جمعہ کو سوال