خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 308

خطبات طاہر جلد 16 308 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء ہی دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد عام طور پر سونا اور عام طور پر جاگ کر دوبارہ زندہ ہونا ہے لیکن فی الحقیقت اگر آپ ان آیات کریمہ پر دوبارہ غور کریں، گہری نظر سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانی غفلت کی حالت کا ایک بہت ہی عجیب نقشہ اس میں کھینچا گیا ہے۔کتنے ہی آدمی ہیں جو غفلت کی حالت میں ایسے ہیں کہ گویا ان کی روح قبض ہونے کے قریب بیٹھی ہے اور کچھ ایسے ان میں سے ہیں جن کو خدا واپس کر دیتا ہے۔یعنی دنیا میں بھیج کر ان کی آنکھیں کھولتا ہے اور وہ نیند کی حالت سے روشنی کی حالت کی طرف لوٹ آتے ہیں۔مگر بہت سے ایسے ہیں جو اسی حالت میں پھر وہ پوری طرح کھینچ لئے جاتے ہیں اور کبھی انہیں دوبارہ اس دنیا کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ایسے ہی لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب ان کی روح قبض کر لی جاتی ہے تو کہتے ہیں ایک دفعہ ہمیں پھر بھیج۔یہ جو ایک دفعہ پھر بھیجنے کا مضمون ہے یہ در اصل روزمرہ اس کے تجربے میں آتا ہے اور کوئی ایسا خیال نہیں جو عام انسانی تجربے کے برعکس دل میں پیدا ہوا ہے۔ہمیشہ انسان یہ ہی دیکھتا ہے سوتا ہے اور جاگ اٹھتا ہے، ہوتا ہے اور جاگ اٹھتا ہے اور مذہبی دنیا میں جب وہ سوتا ہے اور نہیں جاگتا اس کو خیال نہیں آتا کہ میں تو عملاً ایک موت ہی کی شکل اختیار کر چکا ہوں۔پس جاگنے کا وقت اب ہے جبکہ آپ اس دنیا کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔جب ظاہری موت آپ کو دبوچ لے گی تو قرآن کہتا ہے کہ پھر آپ کے جاگنے کا وقت ختم ہو چکا ہوگا ، پھر آپ خواہش بھی کریں گے کہ اے خدا ہمیں دوبارہ بھیج ہم پھر بیدار ہو کر تیرے احکام کی فرمانبرداری کریں اور ایک نئی زندگی اور پاکیزہ زندگی بنا ئیں تو ایسا ممکن نہیں ہوگا۔تو موت جو ہر وقت لٹکی ہوئی ہے اس کو ہمیشہ بھلائے رکھنا اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوسکتی ہے۔جیسا کہ میں بار بار آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں ہم میں سے بھاری اکثریت ان کی ہے جو احمدیت قبول کرنے کے باوجود غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور اتنی لمبی تفصیل ہے ان باتوں کی جن میں سے ہر ایک بات کو دکھا دکھا کر ان کو تو بہ کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی ایک خطبے میں بیان ہی نہیں ہوسکتی۔روز مرہ کا ہمارا تجربہ ہے۔اگر اپنا وجود دکھائی نہیں دیتا تو دوسرے وجود تو آپ کو دکھائی دیتے ہی ہیں اور یہ ایک ایسا مضمون ہے جس سے ہر انسان واقف ہے۔چنانچہ ایک انسان کیسی ہی گندی زندگی بسر کر رہا ہو اگر اس سے کوئی دوسرا شخص بدسلوکی کرے تو اس کے سارے عیب