خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد 16 25 25 خطبہ جمعہ 10 / جنوری 1997ء دے کہ ہاں یہ قوم ایسی ہو چکی ہے تو اس کے پیچھے پڑ جاتے ہو، کہتے ہو جھوٹ بولتا ہے یا جھوٹ نہیں بھی بولتا تو بتانے کی کیا ضرورت تھی ہم گویا چھپے بیٹھے تھے ہمیں بدنام کر دیا۔کون سی بات ہے جو دنیا کو پتا نہیں ہے۔سب کچھ پتہ ہے۔اس لئے خواہ مخواہ کے جھگڑے لگا بیٹھے ہو۔وہ بات جس نے بھی کہی ہے، وزیر اعظم نے کہی ہے، بالکل درست ہے کہ اب ہم کس کس کا احتساب کریں۔اوپر سے نیچے تک، آوے کا آوا بگڑا پڑا ہے۔جب ہم نے چھان بین کر کے دیکھنا شروع کیا تو وہ کہتے ہیں میں تو اب بالکل اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ مقررہ مدت کے اندر یہی فیصلہ کر سکوں کہ کس کولسٹ میں رکھنا ہے، کس کو نکالنا ہے، کہاں سے شروع کروں۔چوٹی کے سیاستدانوں سے لے کر ان کے ادنیٰ کارکنوں تک سارے بددیانت ہیں۔چپڑاسی سے لے کر اوپر کے سب سے بالا افسر تک ساروں کا یہی حال ہے تو انہوں نے تو ہتھیار ڈال دیئے ہیں کہ میں تو اب نہیں کچھ کر سکتا۔ساری قوم ہے، اب قوم اپنا محاسبہ آپ ہی کرے میں کیا کر سکتا ہوں مزید۔ٹھیک ہے وہ نہیں کر سکتے مگر یہ تو معلوم کر سکتے ہیں کہ اس قوم کو ہلاک کس نے کیا ہے۔ملاں ہے جس نے اس قوم کو برباد کیا ہے اور جب تک یہ زہر تمہاری جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے، تب تک تمہاری زندگی کی بقاء کا کوئی سامان نہیں ہوسکتا یعنی زندگی باقی رکھنے کا۔اس لئے اس زہر کو پہلے نکالو۔ہر خرابی کا ذمہ دار یہ ملاں ہے اور یہ چڑھا ہوا ہے اس بناء پر کہ احمدیوں کے خلاف جو کچھ یہ کہے تم اسے سینے سے لگائے رکھتے ہو اور اتنا ڈرایا ہے تمہیں کہ اگر احمدیت کے حق میں کوئی سچی بات تم کہو تو یہ تمہاری جان کھا جائے گا اور اسی خوف کی وجہ سے ان کو رفعت مل رہی ہے، عظمت مل رہی ہے جیسی بھی وہ رفعت اور عظمت ہوسکتی ہے۔دراصل ذلت اور نکبت کا دوسرا نام ہے جو ان کی رفعتیں اور ان کی عظمتیں ہیں، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ خدا کی نظر میں یہ رفعت محض ذلت اور نکبت ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔پس ملاں کی جان تو ڑنی ہے تو اس سے احمدیت کا لقمہ چھین لو پھر دیکھو اس کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔اس کے سوا اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔سارے پاکستان میں ایک گلی کی اصلاح کرنے کے قابل نہیں رہے۔ہر موڑ پر مسجد میں دکھائی دیں گی مگر مسجد کا ساتھی بھی دیانتدار نہیں بنا سکے۔تو وزیر اعظم صاحب جب یہ اعلان کرتے ہیں کہ ساری قوم بد دیانت ہو گئی ہے تو ملاں کے گریبان پہ کیوں نہیں ہاتھ ڈالتے۔تم کیا کر رہے ہو بیٹھے ہوئے تم نے جو قیامت مچارکھی ہے کہ ہم اسلام کی حفاظت میں جانیں دے دیں گے،