خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد 16 24 خطبہ جمعہ 10 /جنوری 1997ء کا جواب دیتا ہے۔تم ہوتے کون ہو تمہاری حیثیت کیا ہے؟ تم تو ذلتوں کی مار بننے والے ہو۔عبرت کا نشان بنے والے ہو اور اس تقدیر کوتم ٹال نہیں سکتے کبھی۔یہ میرا چیلنج ہے اسے ٹال کے دکھاؤ۔پس اس رمضان کو اس پہلو سے ہم بھی فیصلہ کن بناتے ہیں تم بھی فیصلہ کن بنالو۔جو جھوٹ اور بکواس جتنی بھی تم کر سکتے ہو، کر رہے ہو اور جتنی گندہ پنی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تم نے کی ہے اس دور میں، میرا خیال ہے انسانی تاریخ میں کبھی کسی نبی کے خلاف کبھی خدا کے کسی بندے کے خلاف اس قسم کی بکواس کبھی نہیں ہوئی تم نے معاملات کو آخری حد تک پہنچا دیا ہے اور اس پہلو سے اللہ تمہیں مہلت بھی دے رہا ہے اور دے چکا ہے مگر تمہارے پکڑنے کے دن آئیں گے اور لازماً آئیں گے، یہ وہ تقدیر ہے جسے تم ٹال نہیں سکتے۔میں آج اس جمعہ میں اعلان کرتا ہوں کہ لازماً تم پر ذلتوں کی مار پڑنے والی ہے۔اس تقدیر کو بدل کے دکھاؤ تب میں اس بات کو قابل قبول سمجھوں گا کہ تم سے مزید گفتگو کی جائے کسی بات پر۔اب یہ سلسلے گفتگو کے کٹ چکے ہیں ان سب بے حیائیوں پر تم قائم ہو جن سے روکنے کے لئے تمہاری منتیں کیں۔تمہیں سمجھایا کہ بس کرو کافی ہو گئی ہے۔اپنے ساتھ ساری قوم کو تو بر باد نہ کرو۔اب آوازیں اٹھ رہی ہیں جگہ جگہ سے کہ ملک ختم ہو گیا ، ملک تباہ ہو گیا۔جو نگران حکومت آئی تھی وہ اب یہ اعلان کر رہی ہے کہ ہمارے بس میں تو بات ہی نہیں رہی۔احتساب کیسا ہم تو کچھ بھی نہیں کر سکتے ، ساری قوم کا یہ حال ہے اور ان کو یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ملک کی بے عزتی کر دی ہے۔کہہ دیا کہ سارے بددیانت ہیں۔تو وہ ملک جس کی عزت جھوٹ سے وابستہ ہو جائے، یہ اعلان کرے اگر وزیر اعظم کہ سارے دیانتدار ہیں تو پھر مقابل کے سیاستدان ان کو معاف کریں گے ورنہ نہیں کریں گے کہ بدنام کرا دیا ہمیں۔بدنام تو ہوئے بیٹھے ہو۔تمہیں پتا ہی نہیں لگا اب تک کہ تمہارا نام کیا ہے دنیا میں۔کیا تمہارا خیال ہے کہ اخباروں کے نمائندے یہ باتیں باہر پہنچ ہی نہیں رہے۔جو قصے چلتے ہیں آئے دن فلاں یہ کھا گیا، فلاں یہ کھا گیا، فلاں کا اتنا سونا پکڑا گیا، فلاں کی یہ گندگی پکڑی گئی اور آئے دن پاکستان کے اخبار جس بے حیائی سے بھرے ہوئے ہیں کہ یہ کردار ہے قوم کا تم سمجھتے ہو کہ دنیا کو پتہ ہی کچھ نہیں۔تم آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہو بے شک ، مگر اگر کوئی تم میں سے یہ بہادری کرے کہ وہ کہہ