خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 290 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 290

خطبات طاہر جلد 16 290 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997 ء پس دعوت الی اللہ کے معاملے میں دعا کے لئے لکھنے والے اور شکایت کرنے والے کہ ہم نے تو ہر طریقہ آزمادیکھا آسمان سے برکت اترتی ہی نہیں وہ ایک خواب و خیال کی دنیا میں بس رہے ہیں۔آسمان سے برکت تو اتر رہی ہے لیکن آپ کے اندر کچھ ایسی کمزوریاں ہیں جنہیں آپ دور نہیں کر رہے اور میں جانتا ہوں کہ تم کیا ہو اندر سے اور جب تک تم ان بدیوں کو دور کرنے کا عمل شروع نہیں کرتے یہ وعدہ تمہارے حق میں پورا نہیں ہوگا کہ يَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِم کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔تو ساری جماعت کے لئے ایک نشو ونما اور بڑھنے کا فلسفہ ان آیات میں بیان ہوا ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے کھول کر بیان فرمایا اور جو ابہام تھے وہ دور کر دیئے اور جو بدیوں کو دور کرنے کی حقیقت ہے وہ ہمارے سامنے کھول دی۔مغفرت کس کو کہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کیا ہونا چاہئے یہ سارے مضامین ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے سامنے کھولتے ہیں۔چنانچہ فرمایا ”مسلمانوں کو خنزیر کے گوشت سے بالطبع کراہت ہے۔“ اس دور میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں یہ کہنا پڑے گا "بالطبع کراہت تھی کیونکہ انگلستان میں کثرت کے ساتھ بد قسمتی سے بعض بڑی تعداد میں بلکہ مسلمان نوجوان ہیں جو خنزیر کھانے لگ گئے ہیں مگر ایک دور تھا تھی اور بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں میں طرح طرح کی بدیاں آگئی ہیں مگر خنزیر کی کراہت آج بھی موجود ہے۔جو استثناء ہے وہ ایک چھوٹے ماحول میں بعض جگہوں پر ہے اور اس کا ذکر میں نے اس لئے کیا کہ یہاں جو پلے ہوئے احمدی نوجوان ہیں وہ کہیں گئے تھی“ والی بات تو پرانی ہوگئی۔پرانی ہوئی مگر بہت محدود علاقوں میں بحیثیت مسلمان عالمی طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ کہنا آج بھی درست ہے کہ بالطبع مسلمان میں خنزیر کے گوشت کے خلاف کراہت موجود ہے۔یہ بیان فرمانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔حالانکہ اور دوسرے ہزاروں کام کرتے ہیں جو حرام اور منع ہیں تو اس میں حکمت یہی ہے کہ ایک نمونہ کراہت کا رکھ دیا ہے اور سمجھا دیا ہے کہ اسی طرح انسان کو گناہ سے نفرت ہو جاوے۔فرمایا سور کی کراہت تمہارے دل میں بالطبع موجود ہے اس لئے نہیں کھاتے تو آسان ہے نہ کھانا بلکہ اتنا آسان ہے کہ اس کے خلاف کرنا تمہارے لئے دو بھر ہے، سوچنا بھی مشکل ہے ایک کراہت پیدا ہوتی ہے۔اگر گناہ کا مفہوم تمہیں اس طرح سمجھ آ جائے کہ اس کا گند دیکھ کر تم اس کی طرف جھکنے کا تصور بھی نہ کرو اور طبیعت