خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد 16 288 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء اب دیکھیں بخشش کی بھی کیسی اعلیٰ پہچان ہمیں عطا فرما دی۔یہ خیال، یہ واہمہ کہ ہم نے خوب رو رو کر دعائیں مانگیں اور محسوس ہوا کہ اب ہم بخشے گئے ہیں اور گناہ جھڑ گئے ہیں یہ واہمہ دور فرما دیا یہ بیان کر کے ایک کسوٹی ہے بخشش کو جانچنے کی اور وہ یہ کسوٹی ہے کہ جس گناہ کو بخشا گیا ہے اس گناہ سے انسان کو بالطبع دوری عطا کی جاتی ہے، اس کو بعد عطا کیا جاتا ہے۔ایک طبعی نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور جب تک اس کی محبت باقی ہے اس وقت تک بخشش کا کوئی سوال نہیں ہے۔اگر محبت باقی رکھے خدا اور بخش دے تو پھر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گناہوں کو ترویج دینے کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ کے خلاف ہے کہ ایسی حالت میں بخشے کہ اس گناہ کی محبت ، اس کا پیار، اس کی حرص دل میں باقی رہے اور اللہ کہے میں نے تجھے بخش دیا ہے اور پھر فرمائے کہ اب جو چاہے کرتا پھر تو اس کا مطلب ہے کہ خدا سے بڑھ کر اور کوئی گناہ کو ترغیب دینے والا نہیں ہوگا، پھر کسی شیطان کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔پھر اللہ ہی کافی ہے گناہوں کو ترغیب دینے والا ، نعوذ بالله من ذالک۔یہ اتنا خطرناک ظالمانہ خیال ہے کہ جو خدا کے عرفان کا ایک شائبہ رکھنے والا بھی قبول نہیں کرسکتا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ان گہرے معارف کو سمجھ کر ان حدیثوں کے معنوں کو سمجھیں جو بد قسمتی سے بعض علماء نے غلط معنوں کو ترغیب دینے کے لئے رائج کر دیں اور گناہوں کو کم کرنے کی بجائے وہ حدیثیں گناہ کو بڑھانے کا موجب بنادی گئیں جو خدا ہی کی نہیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ یہ کی بھی بڑی گستاخی ہے کہ گویا آپ کو اللہ کا عرفان ہی نصیب نہیں تھا، نعوذ باللہ من ذالک۔آپ خدا کو ایسا سمجھ رہے تھے جو گناہ کو تقویت عطا کرتا ہے۔پس جب تک عمل کی زندگی ہے اس وقت تک یہ ہو نہیں سکتا۔یہ ترجمہ مکمل نہیں اور جب عمل کی زندگی ختم ہو تو اعمل ماشئت کا مضمون ختم ہو جاتا ہے۔ایک بخشش ہے جو عمل کی زندگی کے دوران ہے یہ میں اس بخشش کی بات کر رہا ہوں۔ایک بخشش ہے جو موت کے وقت یا بعض دفعہ موت کے بعد عطا ہوتی ہے وہ جو بخشش ہے اس میں خدا کامل طاقت اور اختیار کھتا ہے جو چاہے کرے۔کوئی نہیں جو اس کی راہ میں حائل ہو سکے۔مگر اس کے بعد اعمل ما شئت کا تو پھر مضمون باقی نہیں رہتا۔عمل کی دنیا تو ختم ہوچکی ہے۔پس جب تک آپ کو