خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد 16 اور 23 23 خطبہ جمعہ 10 جنوری 1997ء احمدیت کا وجود ہے یہ اور وہ ہے کلمہ توحید کی گواہی۔آنحضرت ﷺ کی رسالت اور عبدیت کی گواہی ور یہ گواہی کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور کوئی نہیں جو کبھی دنیا میں آپ کی شان کا ہمسر پیدا ہوا۔نہ آئندہ کبھی ہوگا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خمیر آپ کی محبت سے اٹھا ہے، آپ کے عشق سے اٹھا ہے، آپ کی کامل غلامی سے اٹھا ہے، آپ پر فدا ہو جانے کے ساتھ اٹھا ہے وہ خمیر۔تو ان باتوں سے تم ہمیں اپنی گندہ دہنی سے کیسے روک سکتے ہو۔نہ روک سکتے ہو۔نہ کبھی روک سکو گے۔یہ حوالے کہ پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن یہ کہتی ہے اس پر ایمان لے آئیں، کیسی احمقانہ بات ہے کہ پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن کا آئے دن تم انکار کرتے پھرتے ہو۔جب کوئی حوالہ ملتا ہے اسی کانسٹی ٹیوشن نے ہمیں آزادی ضمیر کا حق جو دیا ہے وہ تم کیوں نہیں مانتے۔اس لئے جہالت کی حد ہے۔ایک قوم جب فیصلے کرتی ہے ان کی مرضی کے خلاف ہو تو کہتے ہیں ہم دھرنا دیں گے، ہم سڑکوں پہ بیٹھ جائیں گے، ہم کسی قیمت پہ نہیں مانیں گے اور اس کے باوجود ہمارا حق ہے کہ ہم میں حج بھی بنائے جائیں ، ہم میں وزیر بھی بنائے جائیں۔ہم میں ہر عہدے کے لوگ چاہے اہل ہوں یا نہ ہوں، منتخب کر لئے جائیں اور احمدیوں پر یہ الزام کہ چونکہ کانسٹی ٹیوشن کو نہیں مان رہے اس لئے ان کو کانسٹی ٹیوشن کے لحاظ سے کوئی ذمہ داری بھی سونپنی نہیں چاہئے۔کون سی کانسٹی ٹیوشن ہے جس کی تم بات کرتے ہو۔خدا کی کانسٹی ٹیوشن کے مقابل پر ساری دنیا کی کانسٹی ٹیوشنز بھی کچھ کہیں ہم پاؤں کی ٹھوکر سے اس کو رد کر دیں گے۔تمہاری کانسٹی ٹیوشن ہمیں یہ منوانا چاہتی ہے کہ نعوذ باللہ، رسول اللہ ﷺ جھوٹے ہیں۔کوئی حیا کرو۔تقدس محمد رسول اللہ اللہ کا اور اس کی حفاظت کے لئے تم کھڑے ہوئے ہو۔ایسے مکروہ لوگ جن کے نزدیک تقدس کا یہ تصور ہے کہ جب تک کوئی محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار نہیں کرے گا ہم اسے سینے سے نہیں لگائیں گے۔ہم ایسے سینے پہ تھوکتے بھی نہیں۔کیسی خبیثانہ حرکت ہے اور اسے یہ مولویت کا نام دے رہے ہیں کہ ہم مولانا ہیں۔ہمیں دین کا علم ہے اس لئے ہم اعلان کرتے ہیں کہ جب تک احمدی کانسٹی ٹیوشن کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے اس وقت تک ہم اس مہم کو نہیں چھوڑیں گے اور اس وقت تک کسی احمدی کو پاکستان میں زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔ہم تو اس خدا کی بات کا جواب دیں گے جس نے کہا کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی جو ہماری بات