خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد 16 283 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997 ء ضرور دور فرما دے گا اور جب دور فرمائے گا تو اس کی علامتیں ظاہر ہونگی۔وہ علامتیں یہ ہیں کہ سب سے پہلے تم مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے۔تمہاری دعاؤں کو جو نیک نیتی سے کی جارہی ہیں، جن کی عمل صالح تائید کر رہا ہے ان دعاؤں کو خدا قبول فرمائے گا۔- وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّلحت ان لوگوں کی دعا کو قبول فرمائے گا جو ایمان لے آئے اور پھر نیک اعمال بجالائے۔پس محض گزشتہ کی تو بہ کافی نہیں جب تک اپنی زندگی کو نیک اعمال سے بھر نہ دو اور نیک اعمال ہی ہیں جو دراصل بدیوں کو دور کرنے کی ضمانت ہوا کرتے ہیں۔فرمایا وَ يَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِہ اور پھر وہ اپنے فضل سے ان کو اور بھی بڑھائے گا۔اب یہ جو آیت ہے وَ يَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ اس میں ایک بہت عظیم وعدہ کیا گیا ہے لیکن وہ وعدہ ہے کیا ؟ ایک معنی اس کا یہ کیا جاتا ہے جو عربی کے لحاظ سے درست ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال کی جزا میں ان کو بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے گا یعنی ایسے لوگوں کے اعمال کی جزا ان کو بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے گا۔لیکن مجھے ایک اور معنی اس سے زیادہ پسند ہے اور میرے نزدیک اس موقع پر وہ زیادہ صادق آتا ہے اور اس کا پہلی آیات سے ایک براہ راست تعلق ہے يَزِيدُهُمْ کا مضمون كَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یا يَعْفُوا عَنِ السَّيَّاتِ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جو انسان اپنی بعض عادتیں اپنے سے تو ڑ تو ڑ کر الگ پھینک رہا ہے وہ کم ہوگا زیادہ تو نہیں ہوگا۔ظاہری عقلی تقاضا یہ ہے کہ اس میں سے کچھ اترا اور کچھ پھینکا گیا۔زیادہ وہ کیسے ہو جائے گا۔زیادہ تبھی ہوگا اگر بدیوں کے دور کرنے کا مضمون سمجھ آجائے ور نہ ہو نہیں سکتا اور اس مضمون کو قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ یوں کھولا ہے کہ تم اپنی بدیوں کو حسن کے ذریعہ دور کر و یعنی ایسے بنو کہ بدیوں کو ویسے اکھیڑ کر باہر نہ پھینکو بلکہ حسن کے ذریعے تبدیل کرو اور اس مضمون کو قرآن کریم نے مختلف آیات میں مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے لیکن ہمیشہ یہی مضمون ہے کہ وہ ایک آیت جو معین میرے ذہن میں تھی اس وقت وہ زبان پہ جاری نہیں ہو رہی لیکن یاد آ جائے گی اس دوران، معنی اس کا یہی ہے کہ حسن کے ذریعے، خوبیوں کے ذریعے اپنی بدیوں کو دور کرو جس میں ایک بہت گہرا حکمت کا راز بیان فرما دیا گیا کہ بدیاں اپنی ذات میں دور کرنا نہ مقصود ہے نہ ممکن ہے، یہ ہو نہیں سکتا کہ تم اپنی بعض پرانی عادتیں