خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 282
خطبات طاہر جلد 16 282 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء کام لیتا ہے تو اس کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نظر انداز فرما دیتا ہے، ان کے عواقب سے بچا لیتا ہے اور دوسرے یہ کہ جب خدا نظر انداز فرمائے تو بدیاں مٹنی شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ خدا کی آنکھ سے تو کوئی چیز اوجھل نہیں رہ سکتی۔اس کی آنکھ سے اوجھل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعہ مٹ جاتی ہیں لیکن کیسے مٹتی ہیں۔کیا یہ از خود ایک طبعی سلسلہ ہے جو جاری ہوتا ہے یا اس میں انسان کو بھی کسی کوشش یا جد و جہد کی ضرورت ہے۔یہ دوسرا پہلو ہے جو میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم نے اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں وہ کہتے ہیں رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيْمَانِ کہ اے خدا! اے ہمارے رب! ہم نے ایک ایسے پکارنے والے کی آواز کو سنا جو یہ کہتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ پس ہم ایمان لے آئے۔رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا پس ہمارے ایمان کا تقاضا ہے اور یہ پہلا تقاضا ہے کہ ہمارے سابقہ گناہ بخش دے تا کہ ہلکے قدموں کے ساتھ ، سارے بوجھ اتار کر پھینکتے ہوئے ہم تیری طرف آگے بڑھیں لیکن اس سے آگے ایک اور تقاضا بھی ہے کہ کچھ ایسی برائیاں ہیں جو بخشش کے باوجود ہماری ذات کا ایسا جزو بن چکی ہیں کہ ہم انہیں ایک دم نوچ کر الگ نہیں پھینک سکتے وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا کی دعا سکھائی ہے۔پس اگر دعا کی طلب نہ ہوتو اللہ تعالیٰ کو انسان کے ساتھ کوئی بھی تعلق قائم نہیں ہوا کرتا۔پس یہ جو مضمون ہے کہ بدیوں کو دور فرما دے گا اس کا انسانی ذات میں ایک طلب کا پیدا ہونا ، ایک خواہش کا ابھرنا اور اس خواہش کے مطابق جو اس سے ملتے جلتے ، اس سے تعلق رکھنے والے اعمال ہیں ان کا آغاز ہو جانا یہ سب انہی آیات کے اندر شامل ہے۔پس جو آیتیں میں نے اب آپ کے سامنے پڑھی ہیں یا دوسری سورۃ کی جن آیات کی طرف آپ کو متوجہ کیا ہے ان میں جو اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ہمیں بخش دے تو پھر ہماری برائیوں کو بھی دور فرما دے۔وہ برائیاں دور کرنے کا سلسلہ دعا کے ساتھ جب شروع ہوتا ہے تو پھر یہ تنبیہ فرمائی جاتی ہے وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ کہ دیکھو اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے اس لئے یہ نہ ہو کہ دعا مشرق کی ہو اور رخ مغرب کی طرف ہو جائے۔جس طرف کی دعا کی جارہی ہے اسی سمت میں چلنا پڑے گا اور بدیاں دور کرنے کے لئے تمہیں کچھ نہ کچھ محنت کرنی ہوگی اور جب تم یہ کرو گے تو خدا کا وعدہ ہے کہ وہ