خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد 16 278 خطبہ جمعہ 18 اپریل 1997ء ایک کامل عید کا دن ہوگا اور ہفتے کے روز لیکھرام کے پیٹ میں ایک ایسے نوجوان نے چھری گھونپی اور صرف گھونپی نہیں بلکہ اندر پھرایا جس سے اس کی انتڑیاں کٹ گئیں اور جو کچھ تھا وہ باہر آ گیا جس کے متعلق کوئی سمجھ نہیں آسکی اور کچھ پتانہ چلا۔باوجود انتہائی تحقیق کے کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کون تھا، کہاں سے آیا ، کہاں چلا گیا۔وہ ایک ایسے بازار میں تھا جو آریوں کا بازار تھا وہ تین منزلہ مکان تھا جس کے اوپر کی منزل پر لیکھرام بیٹھا ہوا تھا اور نیچے کی منزل پر اس کی بیوی تھی اور وہ لڑکا جس نے اس کو قتل کیا ہے۔وہ کچھ عرصہ پہلے اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ بطور گویا کہ آریہ ہو چکا ہو اس طرح اس کے ساتھ رہنے لگا اور جب یہ ہفتے کا روز آیا عید کے بعد تو اس دن اس نے اس کے پیٹ میں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے چھری گھونپی اور پھر پھیری اندر اور اس کے منہ سے بہت زور سے چیخ نکلی۔اس قدر درد ناک آواز تھی کہ اس کی بیوی دوڑ کر سیٹرھیوں سے ہوتی ہوئی اوپر چڑھنے لگی جن سیڑھیوں سے اس نے نیچے اتر نا تھا اور نیچے سب آریوں کا بازار تھا۔اس کے واویلے اور شور سے سارے متوجہ ہو گئے اور پر لی طرف اترنے کے لئے کوئی سیٹرھیاں نہیں تھیں، کوئی شخص بھی جو پر لی طرف چھلانگ لگا تا وہ یقیناً ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔پس ایسی حالت میں جب بیوی اوپر پہنچی تو دیکھا کہ لیکھرام تڑپ رہا ہے زخموں سے اور اس کی انتڑیاں اور پیٹ کا اندر کا جو کچھ بھی ہے وہ باہر آ چکا ہے اور مارنے والے کا کوئی نشان نہیں۔نیچے بازار میں جب شور ہوا تو لوگوں نے توجہ کی۔جب پوچھا گیا ان سے تو انہوں نے کہا یہاں سے تو کوئی نیچے اترا ہی نہیں ، نہ کوئی پر لی طرف اترا۔چنانچہ اس کے متعلق کہا گیا کہ پھر اس کو آسمان نگل گیا یا آسمان کھا گیا کیونکہ زمین پر تو اس کا کوئی نشان نہیں۔نہ اس کے پہلے پس منظر کا کسی کو کبھی کچھ پتا چل سکا۔حالانکہ اتناز بر دست شور ڈالا گیا تھا آریوں کی طرف سے اور دوسرے مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مخالفین کی وجہ سے کہ یہ ناممکن تھا کہ پولیس تفتیش کرتی اور اس کا کچھ بھی نہ پتا چلتا۔نہ پہلے کا پتا چلا نہ بعد کا پتا چلا۔کون تھا، کہاں سے آیا، کہاں چلا گیا۔یہ سارے ایک ایسے راز ہیں جو ہمیشہ راز رہیں گے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشفی نظارے میں اس فرشتے کو دیکھا تھا جو چھری ہاتھ میں لئے تھا اور لیکھرام کا پوچھ رہا تھا کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی گستاخی میں اس کو یہ سزاملنی تھی۔پس یہ ایک ایسا عظیم الشان نشان ہے جو 1897ء میں تقریباً ایک سوسال پہلے رونما ہوا