خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 22
خطبات طاہر جلد 16 22 22 خطبہ جمعہ 10 / جنوری 1997ء ہیں کہ جماعت پر یہ جھوٹے الزامات ہیں پھر دوبارہ شور ڈالنا شروع کر چکے ہیں اور جانتے بوجھتے کہ جماعت کی طرف سے اس پر لعنۃ اللہ علی الکاذبین دعا بار باردہرائی گئی ہے، پھر بھی کوئی حیا نہیں کر رہے۔اور اب ایک وزیر کے بہانے جو احمدی ہے مہم شروع کی ہے۔اس میں ان اعتراضات کا، سب کا نہیں تو بہتوں کا اعادہ کیا گیا ہے جن کے متعلق جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ نے اعلان کیا تھا، مباہلے کا چیلنج دیا تھا اور اس مباہلے کی صداقت کا نشان بنا کر ضیاء الحق کو خدا تعالیٰ نے ایسا نیست و نابود کیا کہ اس کے وجود کا کوئی ذرہ بھی ان کے ہاتھ نہ آیا، صرف ایک ڈنچر تھا جو مصنوعی تھا۔یعنی جو اس مرنے والے کی پہچان تھی وہ مصنوعی دانت تھے اس کے سوا اس کے جسم کا کوئی حصہ، اس کا نشان تک نہیں ملا۔وہاں کی خاک اکٹھی کر کے ایک جگہ بھر دی گئی اور اس خاک میں اس یہودی ایمبیسیڈر کی خاک بھی شامل تھی اس لئے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس کس کی خاک کا پتلا بنایا گیا ہے جسے ضیاء کہا جاتا ہے اب اور جو نشان ہے وہ صرف مصنوعی دانت ہیں اس کے متعلق ذرہ بھی کسی کو شک نہیں۔پس یہ نشان خدا نے بڑی شان سے ظاہر فرمایا۔اور یہ ظالم لوگ باز ہی نہیں آ رہے۔اسی طرح مسلسل بے حیائیوں میں آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔وہی ظالمانہ تحریکات ہیں جو پہلے اٹھتی رہیں۔جن کو روکا گیا جن کے مؤثر ، مدلل جوابات دیئے گئے مگر جب حیا اٹھ جائے تو پھر انسان جو چاہے کرتا پھرے۔اس قوم سے حیا اٹھ گئی ہے یہاں تک وہ دعوے پھر کرتے چلے جاتے ہیں کہ تمام دنیا کے علماء ان کو مرتد اور کفار، دائرہ اسلام سے باہر سمجھتے ہیں اور یہ تسلیم نہیں کرتے۔تم لوگوں کے خلاف بھی تو باقی سب مسلمان فرقوں کے یہی دعاوی رہے ہیں تو تم بھی تسلیم کر لو پھر۔لیکن تم کر بھی لو گے تو ہم پھر بھی نہیں کریں گے کیونکہ اس بکواس کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم واقعہ خدا کی توحید کے منکر ہو جائیں۔ان الزامات کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم واقعتا آنحضرت ﷺ کی خاتمیت کا انکار کر دیں۔ان الزامات کا مطلب یہ ہے کہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ہمسر یا ان سے بڑھ کر سمجھنے لگ جائیں۔تو جو کچھ تمہارے بس میں ہے کرو۔پہلے بھی میں نے یہی کہا تھا۔آج بھی یہی کہتا ہوں اور یہی بات دہراتا رہوں گا۔جو کچھ کرنا ہے کرو۔تم اپنے پیارے بڑھالا ؤ ، اپنے سوار نکال لاؤ، چڑھا دو ہم پر اپنی دشمنی کی فوجیں۔جس طرف سے آ سکتے ہو آؤ لیکن ان باتوں سے احمدیت ٹل نہیں سکتی کیونکہ