خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 270

خطبات طاہر جلد 16 270 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء ساری باتیں ہیں جو انسان کو دکھائی دیتی ہیں اگر چہ ان کے پیچھے تقویٰ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔پس آپ یہ فیصلہ تو نہیں کر سکتے کہ کوئی متقی ہے کیونکہ ایسا ہی عمل بسا اوقات یا بسا اوقات نہیں تو شاذ کے طور پر بعض منافق بھی کر دکھاتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کئی لوگ جو احمدی اس نیت سے ہوتے ہیں کہ انہیں اسائکم مل جائے وہ بعض دفعہ ایک ایک سال دو دو سال بڑی محنت کرتے ہیں۔بے چارے اپنی برائیاں ساری چھوڑتے ہیں، نمازیں شروع کر دیتے ہیں، مسجد میں جاتے ہیں ، اپنی جیب سے پیسے بھی نکالتے ہیں چندے کے لئے مگر جہاں ان کا کام بناو ہیں وہ چھٹی کر گئے۔تو جو جماعتیں ہیں وہ بے چاری تو عمل سے واقف نہیں ہیں نا اس لئے ان کو حق ہی نہیں ہے کہ وہ یہ کہیں کہ ہو سکتا ہے یہ منافق ہو۔اس لئے جب کوئی کہتے ہیں کہ یہ اس طرح کر رہا ہے اب بتا ئیں ہمیں کیا پتا سچ سچ ایسا کر رہا ہے یا اسائکم کی خاطر کر رہا ہے۔تو میں ان سے کہتا ہوں آپ کا فرض صرف ظاہر پر نظر رکھنا ہے۔اگر ظاہری طور پر آپ اس کے اندر کوئی خرابی نہیں دیکھتے، اگر ظاہری طور پر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ جیسا آپ کے ساتھ ہے ویسا آپ سے دور ہو کر علیحدگی میں بھی رہتا ہے تو پھر آپ کو ہر گز حق نہیں ہے کہ اس کے ایمان پر شک کریں۔مگر اس کے باوجود ایسا ہوتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔بہت ہی مخلص بنا ہوا آدمی اچانک پھر اپنے پر پرزے نکالتا ہے اور کچھ کا کچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔تو انسان کو واقفیت نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو واقفیت ہے۔اس لئے تقویٰ کا فیصلہ ہم پھر بھی نہیں کر سکتے۔اگر کوئی اچھا ہو جائے ہم یہ کہیں گے کہ دیکھنے میں اس کے اندر کوئی برائی نہیں ہے، دیکھنے میں کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے اقرار پر شک کیا جائے اس لئے ہم اپنا فیصلہ صادر کر دیں گے اس کے حق میں۔پھر جو کچھ وہ کمائے گا اگر خدا کے علم میں وہ منافق ہے تو اس سے کوئی نیک فیصلہ اس کو حاصل نہیں ہوگا اور ہمیں نقصان کیا ہے۔چند دن اس نے نیکیاں کر لیں چلو یہی بہت ہے اگر اس حالت میں مرجا تا تو شاید ظاہر کا ہی فائدہ اس کو کچھ پہنچ جاتا مگر اگر وہ پھر گیا ہے تو دوہرا نقصان اٹھا کر پھرا ہے۔اس لئے اس بارے میں کسی تردد کی ضرورت نہیں۔لیکن یہ یاد رکھیں کہ اکثر لوگ واقعتہ جب تبدیلیاں ہورہی ہیں تو اچھے ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اکثر ایسے احمدی جو دوسرے معاشرے سے آئے ہیں انہوں نے مخالفت نہیں کی بلکہ ان کے اندر حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں اور ہوتی چلی جاتی ہیں پھر۔پھر اسامکم منظور ہو یا نہ ہو