خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 21
خطبات طاہر جلد 16 21 خطبہ جمعہ 10 / جنوری 1997ء سے پہلے کا مضمون ہے اسے سب سے آخر پر رکھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بندہ جس کی بات کا جواب نہیں ملتا اس کا ایمان بھی سرسری سا اور محض دور کا ایمان ہے، سنا سنایا ایمان ہے لیکن جس کو گھر سے جواب آجائے اس کا ایمان غیر معمولی ترقی کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اندر کوئی ہے۔پس وَلْيُؤْمِنُوا بِی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے تم ایمان نہیں لاتے پھر میرے عباد میں داخل ہو۔مراد یہ ہے ایمان لاتے ہو، عباد میں داخل ہو، ایسے عباد میں داخل ہو کہ جن کی پکار کا میں جواب دیتا ہوں۔پس چاہئے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر، اس مضمون میں یہ بات ملے گی کہ پہلے سے بڑھ کر میری باتوں پر لبیک کہا کرے اور میرے پر وہ ایمان لائے جو ایمان حقہ ہے۔ایسا ایمان ہے جیسے سورج چڑھ جائے تو اس پر کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔تو جب میں جواب دوں تو تمہارے ایمان میں ترقی ہونی چاہئے اور پھر تم ہدایت کے رستے پر چل پڑو گے جو اصل حقیقی ، دائمی ہدایت کا رستہ ہے۔پس اس رمضان میں بھی ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اس آیت کے مصداق بنیں اور واقعہ خدا تعالیٰ رمضان گزرنے سے پہلے پہلے ہمیں اپنے عباد میں شمار کرلے اور اس کے نشانات ہم پر ظاہر فرمائے ، ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور اس طرح قبول فرمائے جیسے کسی انسان کو بلایا جائے تو وہ جواب دیتا ہے تو کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔اور پھر ہمارا ایمان اور رنگ میں آگے بڑھے اور پھر ہمیں ہدایت کی نئی نئی راہیں نصیب ہوں۔یہ وہ دعائیں ہیں جن کے ساتھ ہمیں اس رمضان مبارک میں داخل ہونا ہے۔یہ رمضان کئی پہلوؤں سے بابرکت ہے اور معلوم ہوتا ہے خاص نشان لے کر آنے والا رمضان ہے۔چونکہ آج رمضان کا پہلا دن طلوع ہونے والا ہے اور مہینے کی تاریخ کے لحاظ سے دسویں تاریخ اور جمعہ کا دن ہے اور یہ وہ جمعہ ہے جو Friday the 10th ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کشفی طور پر دکھایا تھا کہ بار بار جماعت کی تائید میں خوشخبریوں کا نشان ظاہر ہوا کرے گا، تو آج Friday the 10th رمضان کے ساتھ جڑا ہوا ابھرا ہے اور اس پہلو سے مجھے اس رمضان کے غیر معمولی طور پر مبارک ہونے کے لحاظ سے کوئی بھی شک نہیں۔مگر ایک اور مزید تائیدی بات یہ ظاہر ہوئی کہ مجھے ربوہ سے ناظر صاحب اصلاح وارشاد نے لکھا کہ یہ مولوی لوگ ان سب باتوں کے متعلق جن کے متعلق آپ مباہلے میں حلفیہ انکار کر چکے