خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 254
خطبات طاہر جلد 16 254 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء رستہ ہے اس پر چلو، جہاں آواز میں آئیں وہاں خیال کرو کہ یہ آوازیں کیسی ہیں اور اگر صراط سے ہٹنے کی آوازیں ہیں تو جھوٹی ہیں۔اب اس میں کون سی مخفی بات ہے۔جب بھی انسان گناہ کرتا ہے تو بیچ پر قائم رہتے ہوئے گناہ ہو ہی نہیں سکتا۔آواز میں کوئی ٹیڑھا پن ضرور ہوا کرتا ہے اور اسے قبول کرنے سے پہلے انسان سمجھ چکا ہوتا ہے کہ یہ ٹیڑھی بات ہے اس لئے دھو کے کا کوئی سوال نہیں رہا۔جو انسان قدم اٹھاتا ہے جان بوجھ کر اپنی اندرونی کبھی کی پیروی کرتے ہوئے وہ راہ سے بھٹکتا ہے اور جب بھٹک جاتا ہے تو پھر شیطان کی غلامی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔اتبع کا لفظ بتا رہا ہے کہ غاوین جو ٹیڑھے ہوں وہ محض ایک غلطی کی وجہ سے کلیۂ شیطان کے بندے نہیں بن جایا کرتے۔ایک غلطی کی وجہ سے شیطان کے قبضے میں آنا شروع ہو جاتے ہیں پھر اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔پس جو لگیں گے وہ بھی خود ہی لگیں گے تیرے پیچھے اور ایک ٹھوکر کے بعد پھر اگلی ، اگلی کے بعد پھر اس سے اگلی اور یہ سلسلہ ہے جو سلسلہ وار آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس اپنے نفسوں میں ہر انسان دیکھ لے اپنا جائزہ لے لے تو یہ کوئی اتنے بڑے عارفانہ مضامین نہیں ہیں کہ سمجھ ہی نہ آئیں۔اتنی کھلی کھلی باتیں ہیں اور قرآن نے اتنی کھول دی ہیں کہ اس کے بعد کسی کے لئے آنکھیں بند کر کے یہ خیال کرنا کہ مجھے پتا نہیں تھا میں اس لئے کر رہا ہوں بالکل جھوٹ ہے۔کوئی بھی انسان اگر یقین کر لے کہ فلاں شخص شک میں مبتلا تھا اور پھر اس سے یہ غلطی ہوئی ہے اس کو سزا نہیں دیا کرتا۔اگر اس میں انصاف ہو تو نہیں دیتا۔چنانچہ قانون کی زبان میں کہتے ہیں اس کو Benefit of doubt دے رہے ہیں۔نظر تو آرہا ہے کہ غلطی کی ہے اس نے مگر ہم اس بات کا اس کو بینیفٹ یعنی فائدہ پہنچا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ شک کا فائدہ کیوں نہ دے گا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے مضامین اتنے کھول دیئے ہیں کہ شک کی گنجائش ہی کوئی نہیں چھوڑی۔ہر انسان اپنے نفس کو جانتا ہے۔ہر انسان ہر غلطی کے وقت سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ غلطی اب میں کیوں کر رہا ہوں اور کوئی حرص ہے اور ہر غلطی میں کسی کی حق تلفی ضرور ہوتی ہے۔ہر غلطی میں توازن ضرور بگڑتا ہے۔جب تجارت کے ذریعہ جائز طریق سے آپ کوئی دولت حاصل کرتے ہیں تو کبھی آپ کے ضمیر نے چٹکی نہیں لی لیکن جو رشوت کے ذریعہ دولت حاصل کرتا ہے یا دھوکہ دے کر لیتا ہے تو پہلی دفعہ ضرور ضمیر چنگی بھرتا ہے۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ اس کو چنگی محسوس نہ ہوئی ہو۔پھر اتبع کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔پھر وہ شیطان کی پیروی شروع