خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 20
خطبات طاہر جلد 16 20 20 خطبہ جمعہ 10 /جنوری 1997ء وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ کا وعدہ رمضان کے تعلق میں بطور خاص مسلمانوں کو عطا کیا گیا ہے کہ جب بھی میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں۔سال تجھ سے سوال کریں یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فَإِنِّي قَرِيبٌ تو میں تو قریب ہوں۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعوت کا جواب دیتا ہوں۔فَلْيَسْتَجِبوانی چاہئے کہ وہ بھی میری باتوں کا اثبات میں جواب دیا کریں۔بعض دفعہ جو آغاز کی شرط ہے وہ بعد میں بیان کی جاتی ہے، نتیجے کو ملا دیا جاتا ہے یعنی دونوں کا ایک دوسرے سے لازم ملزوم کا تعلق ہے۔میں تو جواب دیتا ہوں اور دیتا رہوں گا مگر تم بھی تو جواب دیا کرو اگر اس جواب کے مستحق ہونا چاہتے ہو۔یعنی جو تعلیمات میں نے عطا فرمائی ہیں ان پر عمل کرو۔جو راہ میں نے دکھائی ہے اس پر چلو تو پھر تم اس بات کے مستحق ٹھہرو گے کہ جب تم مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں اور یہ تو میں کرتا ہوں اور ہمیشہ سے کرتا آیا ہوں، یعنی یہ مضمون ہے۔إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَاِنّي قَرِيبٌ یہاں لفظ عباد میں اس مضمون کی چابی ہے۔ورنہ لاکھوں کروڑوں ہیں جو پکارتے ہیں اور بظاہر قرآن کریم پر عمل کرنے والے بھی ہیں مگران کو خدا کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا تو عِبَادِی فرمایا ہے جس کا بطور خاص یہاں یہ معنی ہے کہ میں ان کا جواب دیتا ہوں جو واقعہ میرے بندے بن چکے ہوں اور غیر اللہ کا ہر طرح سے انکار کر چکے ہوں۔میں ان بندوں کی بات کا جواب دیتا ہوں جو میری تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور جب میں بلاتا ہوں وہ ہاں، لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جایا کرتے ہیں۔پس یہ آیت پہچان ہے ہماری عبادت کی۔ہم عباد اللہ میں شمار ہوئے ہیں کہ نہیں ہوئے۔پس اگر جماعت احمدیہ میں کثرت سے ایسے موجود ہیں کہ جو عبادت کی اس شرط پر پورے اترنے والے ہیں جن کی دعاؤں کے جواب میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہاں میں حاضر ہوں جس طرح تم میرے حضور حاضر رہتے ہو، تمہاری التجاؤں کو قبول کرنے کے لئے میں حاضر ہوں، قریب کا مطلب یہی ہے کہ میں تو پاس ہی ہوں کہیں دور نہیں ہوں۔اگر یہ سلوک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو خوش خبری ہے ان لوگوں کے لئے کہ وہ عباداللہ میں داخل ہوں کیونکہ عباداللہ کی یہ تعریف ہے جو اس آیت میں فرمائی گئی ہے۔وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اور مجھ پر ایمان لائیں حالانکہ ایمان لا نا عباد کہلانے