خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 253
خطبات طاہر جلد 16 253 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997ء تو نے خالص کر دیا ہے، جو تیرے نزدیک خالص ٹھہرے ہیں، وہ نہیں جو اپنے اخلاص جتاتے پھرتے ہیں ، وہ بندے جو ہیں وہ تو میرے دائرہ اثر سے ہی باہر ہیں میری ان پر کوئی پیش نہیں جائے گی۔تو وہ محفوظ بندے ہیں ان بندوں میں ہو کر مرنا ہے یہ ہمارا مقصد حیات ہے اور ان باتوں کو سمجھا رہا ہوں میں آپ کو تا کہ باریک سے باریک راہیں دکھائی دیں اور پتا چلے کہ ان باتوں کا لحاظ کئے بغیر ہم مخلصین میں شامل نہیں ہو سکتے۔بندے تو رہیں گے ہی۔ہر چیز جو پیدا ہوئی وہ خدا ہی کا بندہ ہے۔قَالَ هَذَا صِرَاطَ عَلَى مُسْتَقِيم وہ جو میں نے بات کی تھی کہ سیدھے رستے پر چل کر پھر بھی لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں اور سیدھا رستہ کوئی ڈھکا چھپا رستہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هذا صِرَاطَ عَلَى مُسْتَقِیمُ یہ دیکھو میری راہ کتنی صاف کھلی کھلی اور سیدھی راہ ہے اس راہ پر چل کر کوئی بھٹک سکتا ہی نہیں۔مستقیم کا ایک یہ معنی بھی ہے۔جو سیدھی راہ ہے اس میں بل فریب کے ساتھ آپ کیسے چل سکتے ہیں۔بندوق کی نالی اگر سیدھی ہے تو گولی سیدھی ہی گزرے گی اس لئے ٹیڑھی نالی میں سے تو ٹیڑھا سفر ہوا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے تیرے بن ہی نہیں سکتے اگر صراط مستقیم پرر ہیں کیونکہ صراط سیدھی ہے تو ان کو بھی سیدھا ہی چلنا ہوگا۔پھر اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن میرے بندے وہ ہیں تجھے ان پر ایک ذرہ بھی غلبہ نصیب نہیں ہوگا۔سلطان غلبے کو کہتے ہیں۔سلطان، کسی قسم کا کوئی غلبہ نصیب نہیں ہوگا۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ میرے بندے ہوں اور تیرے بن جائیں اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَوِيْنَ اور جو باقی ہیں ان پر بھی تجھے غلبہ نہیں ہے۔تجھے غلام نہی ہے۔جب تک وہ تیرے نہیں ہوں گے تیرے پیچھے نہیں چلیں گے۔اس لئے تیرا یہ تکبر بھی جھوٹا ہے کہ میں تیرے بندوں کو اپنا بنا لوں گا۔میرے بندے تو میرے ہی رہیں گے۔جو میرے ہوتے ہوئے خود تیرے ہوں گے وہ تیرے پیچھے جائیں گے اور ان پر فخر کرنا بالکل بے معنی بات ہے کیونکہ وہ اپنی ذات میں ہی اندرونی کجیوں کی وجہ سے تیری طرف جانے کی تمنا رکھیں گے تو جائیں گے میرے بندوں کو زبردستی تو نہیں کھینچ سکتا۔وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ اور پھر أَجْمَعِينَ ان سب کا ٹھکانہ کلیۂ جہنم ہی ہے۔اتنی واضح کھلی کھلی بات بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جو توقع رکھتا ہے وہ کوئی چھپی ہوئی توقع تو نہیں ہے۔صراط کھول دی گئی ہے۔سیدھا