خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 252
خطبات طاہر جلد 16 252 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء تعلق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استغفار کی راہوں کو اور بعض ایسی غلط فہمیوں کو جو اس رستے میں لوگوں کو در پیش ہو ئیں خوب کھول کھول کر بیان فرمایا ہے۔مگر سب سے پہلے شاید میں نے آیات جو تلاوت کی تھیں ان کا ترجمہ نہیں کیا تھا۔یہ سورۃ الحجر کی آیات چالیس تا چوالیس تھیں جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی۔قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيْنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَا غُوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ۔شیطان نے کہا اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ قرار دے ہی دیا ہے اس میں بھی ایک بڑی حکمت کی بات ہے۔شیطان جانتے بوجھتے شرارت کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ سے جو کلام کرتا ہے اس میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا ویسے کہتا ہے جب تو نے مجھے گمراہ قرار دے دیا ہے تو یہ تو لازمی بات ہے کہ تیرا فیصلہ درست ہوگا۔اگر یہ فیصلہ درست ہے تو پھر مجھے گمراہ کے طور پر اب رہنا پڑے گا۔اب گویا میرا مقدر بن گیا کہ قیامت تک اب میں گمراہ ہی رہوں گا۔تو نے مجھے کہہ جو دیا کہ تو قیامت تک گمراہ ہے۔تو پھر قیامت تک گمراہی کے کام کیوں نہ کروں اور میر انفسی انتقام ایک یہ ہے کیونکہ مغرور انسان جب مارا جاتا ہے تو اس کا دل کچلا جاتا ہے ، وہ انتقام کی راہیں تلاش کرتا ہے۔تو گویا خدا تعالیٰ سے شیطان نے اس کی بات مانتے ہوئے بھی انتقام کی ایک راہ تجویز کی ہے۔وہ کہتا ہے بہت اچھا میں گمراہ، میرا اب یہ مقصد بن گیا کہ لا زَيْنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَا غُوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ کہ جو بھی بندے ہیں تیرے پیدا کردہ اور جن کو تیرے غلام ہونا چاہئے میں ان سب کے لئے زینت کے ایسے ایسے سامان پیدا کروں گا اغوينهم یعنی ایسی ایسی زینت کی جگہیں دکھاؤں گا ان کو اور اغوينهم اجمعین اور ان کو گمراہ کرنے کے دوسرے ذرائع بھی اختیار کروں گا یہاں تک کہ وہ سارے کے سارے تجھے چھوڑ دیں گے۔پس میں اپنی غلامی کرنے والوں کی تعداد بڑھالوں گا اور تیری عبادت کرنے والوں کی تعداد کم کر دوں گا اور یہ ہے میرا انتظام کہ تو نے مجھے کیوں گمراہ قرار دیا لیکن جانتا ہے کہ بعض پر اس کی بس نہیں چل سکتی۔یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جو سچا خدا کا بندہ ہے اس پر شیطان کا ذرہ بھر بھی اثر نہیں ہو سکتا۔تو ساتھ ہی کہہ دیا إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ المُخْلَصِينَ ، أَجْمَعِينَ ہوں گے کثرت کی وجہ سے مگر جو تیرے بندے تیرے مخلص ہو چکے ہیں اور یہاں مُخلصین نہیں بلکہ مخلصين بتایا گیا ہے۔قرآن کریم نے شیطان کی طرف جو لفظ منسوب کئے ہیں وہ مخلصین ہیں وہ بندے جن کو