خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 250
خطبات طاہر جلد 16 250 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء استعمال کرو تو پھر امید بندھ جاتی ہے کہ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِیم ہے۔ہماری زندگی کے مٹ جانے سے پہلے داغ نہ بھی مٹے تو اپنی رحمت سے ان کو دھو دے گا اور کالعدم کر دے گا۔یہ عفو ہے خدا کا، صرف مغفرت ہی نہیں فرما تا بلکہ عفو بھی ہے۔عفو کا یہی مطلب ہے کہ ہے تو سہی مگر صرف نظر فرما لیتا ہے کہ گویا داغ تھا ہی نہیں۔جب ایک انسان اپنی نظر ہی پھیر لے تو جو چیز موجود ہے وہ بھی دکھائی نہیں دے گی۔تو خدا کو دکھائی تو دیتا ہے مگر سلوک ایسا فرماتا ہے کہ گویا اس نے دیکھا نہیں یہ عفو کا مقام ہے۔تو جب خدا تعالیٰ عفو کا وعدہ بھی فرما رہا ہے وہ سہارے بھی عطا کر رہا ہے تو ایک گناہ گار بندے کے لئے مایوسی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس کو چاہئے کہ حقائق کی دنیا میں اتر کر معروف حقیقوں کو پہنچانے ، ان کی مثالوں کو نسبتاً غیر معروف حقیقتوں پر چسپاں کرے تو اس کی زندگی کا سفر بالکل کھلا کھلا اور صاف اور روشن ہو جائے گا کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو اس کو دکھائی نہ دے سکے۔بعض دفعہ لوگ سنتے ہیں کہ ایک ہی نظر نے کسی کو پاک کر دیا۔اب کسی ایک نظر سے کپڑے تو صاف ہوتے دیکھے نہیں کبھی کبھی کسی ایک نظر سے صدیوں کے لگے ہوئے زنگ تو دور ہوتے دیکھے نہیں اور یہ قانون کس نے بنایا ہے۔کیا اس خدا نے نہیں بنایا جو روحانی قانون کا بھی خالق ہے تو تضاد کیسے ہو سکتا ہے۔مگر مادی قوانین میں بھی بعض تیزی سے رونما ہونے والے واقعات ہمیں دکھائی دیتے ہیں مثلاً وہ زنگ دار چیز جس کے اوپر سال ہا سال سے زنگ لگا ہوا ہے اس کو رگڑ رگڑ کر صاف کرنا اور دواؤں کے ساتھ صاف کرنا بعض دفعہ ممکن نہیں ہوتا تو انسان اس کو بھٹی میں ڈال دیتا ہے اور جو کام سالوں کی محنت نہیں کر سکتی وہ بھٹی کے چند لمحے کر دکھاتے ہیں لیکن آگ میں جلنا پڑتا ہے۔پس وہ لوگ جو بعض دفعہ اچانک استغفار کے نتیجے میں زندہ ہو جاتے ہیں وہ لوگ جن کے اندر اچانک ایک انقلاب رونما ہو جاتا ہے ان کی تکلیف بھی اسی حد تک بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور بغیر تکلیف سے گزرے استغفار ہو ہی نہیں سکتا۔تو اگر آگ بھڑک اٹھی ہے ان کے اندر ندامت کی اور خدا کے حضور شرمندگی کی اور تو بہ اپنے اندر ایک جہنم پیدا کر دے تو اس جہنم میں اس کے سارے گناہ بھڑک کر ایک دم ختم ہو جائیں گے۔پس نئی زندگی اچانک جو ملتی ہے وہ بھی قانون قدرت کے مطابق ہے۔یا استغفار ایسا کرو کہ زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جائے۔آنا فانا تم اس آگ میں جل جاؤ جو خدا تعالیٰ کی ہیبت اور اس کی عظمت، اس کے رعب کی آگ ہے تو پھر یہ درست ہے کہ ایک ہی دن میں تمہاری