خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 249

خطبات طاہر جلد 16 249 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997ء غور کرو۔کوئی ایسا قاتل ہے جس کے قتل کی طرز اس طرح کی ہے Modus Operandi کہتے ہیں ہر قاتل کا Modus operandi بنیادی طور پر ایک ہی ہوتا ہے۔اس کی جو ساخت ہے دماغ کی وہ جس طریق پر قتل سوچتا ہے خواہ آلہ و ہتھیار بھی بدل جائیں وہ طریق ضرور دکھائی دے دے گا اور چوٹی کے جو سراغ رساں ہیں وہ اس Modus operandi کے ذریعے قاتلوں کو پہچانا کرتے ہیں۔اب یہ بات قرآن کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سمجھائی کہ بنی اسرائیل میں جو قتل ہوا ہے ایک بڑے آدمی کا اس کو اس کی مثالوں پر پر کھ کے دیکھو اس شخص کی حرکتیں تمہیں دکھائی دے جائیں گی۔اس کا ترجمہ غلط کر لیا گیا مگر میں اس تفصیل میں نہیں اس وقت جاتا۔اصل یہ معنی ہے اس آیت کریمہ کا اور یہاں بھی بہترین طریق، باریک مسائل کو سمجھنے کا یہی ہے کہ موٹی موٹی باتیں جب دکھائی دیتی ہیں ان کے اوپر بار یک مثالوں کو پرکھا جائے۔اب آپ دیکھیں کہ دھوبی کپڑے دھوتا ہے اور کرتا کیا ہے داغ مٹ جائیں۔اس غرض سے نہیں دھوتا کہ داغ رہیں مگر دکھائی نہ دیں۔جواس غرض سے کرتے ہیں وہ منافقت ہے، وہ دکھاوا ہے اور وہ پھر کبھی نہ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں۔مگر دھوبی جس نیت سے داغ دھوتا ہے وہ استغفار ہے اس کو پٹختا ہے بار بار، پتھروں پر مارتا ہے۔راتوں کو جاگ کر محنت کرتا ہے اس پر مصالحے ڈالتا ہے کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح یہ داغ بالکل مٹ جائے یہاں تک کہ دکھائی نہ دے۔تو دکھائی نہ دینے کی کوشش ہر دفعہ منافقت نہیں ہوا کرتی۔اعلیٰ درجے کی سچائی بھی یہی کام کرتی ہے۔منافق گند کو رکھتے ہوئے چھپاتا ہے اور اعلیٰ درجے کا نیک انسان گند کو دور کر کے مٹاتا ہے اور یہاں تک کہ وہ دکھائی نہیں دیتا۔اب اس میں ایک سیکنڈ میں تو کپڑے نہیں دھل جایا کرتے۔اگر لوہے کی کوئی چیز ہے جس پر گند لگا ہوا ہے تو دیکھیں آپ کو کتنا وقت لگتا ہے اس کو آہستہ آہستہ گند کو صاف کرنا، ریتیوں کے ساتھ ، کپڑے مار مار کے، کچھ مصالحے لگا لگا کے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اور زندگی کی حقیقتیں خواہ وہ روحانی ہوں خواہ جسمانی ہوں وہ ایک دوسری سے ملتی جلتی حقیقتیں ہیں۔جو دکھائی دیتی ہیں ان پر تو غور کرو۔اگر ان پر بھی غور نہیں کرو گے تو جو نہیں دکھائی دیتیں ان پر کیسے غور کر سکو گے، ان کو کیسے سمجھ سکو گے۔پس داغوں کو دور کرنے کا مضمون جو دنیا میں دیکھتے ہو اپنی روح پر اسی کو چسپاں کرو، اسی کو