خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد 16 237 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء روزانہ ضرورتیں پڑتی ہیں کبھی کسی کو بلا کر اس سے مشورہ کرنا پڑتا ہے کبھی کسی اور کو بلا کر اس سے مشورہ کرنا پڑتا ہے مگر خلیفہ وقت کوئی بھی فیصلہ بغیر مشورے کے نہیں کرتا مگر ہر روز مجلس شوری کا انتخاب نہیں ہوتا نہ با قاعدہ رسمی طور پر کوئی اجلاس کی کارروائیاں ہوتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کا طریق اور سنت ہی ہے جو دراصل مجلس شوری کے لئے راہنما ہے۔پس یہ خیال بھی دل سے نکال دیں کہ گویا سال میں ہماری ایک ہی مجلس شوری ہوتی ہے یہ مجلس شوریٰ ایک پہلو سے تربیت کی خاطر ہے ورنہ مجلس شوری کا عمل جاری وساری ہے، مسلسل ہے اور صرف ایک ملک سے تعلق نہیں رکھتی یہ مجلس شوری تمام دنیا کے ممالک سے تعلق رکھتی ہے کئی دفعہ بعض مسائل میں انسان کو خط لکھنا پڑتا ہے جاپان کبھی چین، کبھی امریکہ، کبھی افریقہ کو یہ مسلہ ہے بتاؤ اس سلسلے میں کیا مشورہ ہے کیا ہونا چاہئے اور چونکہ وہ ملک وہ لوگ موزوں تر ہوتے ہیں مشورے دینے میں جن کی طرف توجہ کی جاتی ہے اس لئے ان کے مشورے بہت اچھے ملتے ہیں۔پھر ہر ملک کے مسائل کا تعلق کسی سال کے ایک وقت سے تو نہیں ہے آئے دن روزانہ ڈاک میں وہ راہنمائی طلب کرتے ہیں اور میں پھر ان سے مشورے مانگتا ہوں کہ پہلے اپنا تو بتاؤ کہ تمہاری کیا نیت ہے کیا سمجھتے ہو وہ سب کچھ جب میز پر رکھ دیتے ہیں جیسے انگریزی میں کہتے ہیں At the table۔جب وہ میز پر سب رکھ دیتے ہیں تو پھر میری طرف دیکھتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے علم میں تھا ہم نے پیش کر دیا اب بتائیں کیا فیصلہ ہے۔اس کے نتیجے میں ایک اور بڑی عظیم برکت جماعت کو ملتی ہے وہ وحدت کی اور توحید کی برکت ہے یک جہتی کی برکت ہے ہر ملک کے فیصلے الگ الگ نہیں ہوتے الگ الگ ہونے کے باوجود ان میں ایسی یکسانیت پائی جاتی ہے ایسی یک جہتی پائی جاتی ہے جو ایک مرکزی جماعت کے بغیر ہوسکتی ہی نہیں۔اگر یہ نہ ہوتا تو ساری دنیا میں جماعت کی طرز عمل مختلف ہو جاتی اور ہر ملک کی سوچ کے مطابق ایک علیحدہ سانچہ بنایا جاتا جس میں وہ جماعت ڈھلتی جو کسی ملک سے تعلق رکھتی ہواب باوجود قومی تفریق کے، باوجود انفرادی فرق ہونے کے جو ہر فرد میں بھی واقع ہے اور قومی فرق ہونے کے باوجود جو ہر قوم میں واقع ہے جماعت احمدیہ کی وحدت بالکل ان سے متاثر نہیں ہوتی۔یہ ایک ایسا عظیم الشان اعجاز ہے جو صاحب نظر کے لئے اکیلا ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔