خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 230

خطبات طاہر جلد 16 اللہ کا حقیقی تصور پتا نہیں لگ سکتا تھا۔230 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء جو دوسرے ذرائع ہیں وہ بھی ہیں مگر نسبتا مدہم اور مخفی اور بعض ابہام رکھنے والے ہیں انسان دھو کے میں پڑ سکتا ہے انسان اپنی طبیعت پر اگر جانچے تو کئی دفعہ خدا کے تصور میں دھوکہ کھا جاتا ہے مگر صلى الله نمونہ اس کو بنایا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دھو کہ نہیں ہوسکتا۔پس آنحضرت ﷺ کے نمونے کو دیکھ کر اگر ویسا بنا چاہوتو اللہ کی رحمت سے ایسا ہو سکتا ہے اس کے بغیر ممکن نہیں۔پس اس کے لئے اگر توجہ ہے تو پھر دعائیں کرنی ہوں گی اور خدا کی طرف گریہ وزاری سے جھکنا ہوگا کیونکہ اخلاق محض کہنے سے نصیب نہیں ہو جایا کرتے۔ہم نے تو بسا اوقات دیکھا ہے کہ جتنا چاہیں آپ کسی کو نصیحت کرلیں جو بدخلق اور طبعا بد تمیز ہے اگر اس میں خدا کے سامنے عاجزی کی عادت نہیں ہے تو وہ کبھی بھی کسی کی بات نہیں مانے گا اس نے اسی طرح بدتمیزی کی حالت میں جان دینی ہے۔مگر اگر خدا کا تقویٰ پیدا ہو جائے اور اللہ کی رحمت کی طرف توجہ پیدا ہو جائے تو ایسے شخص پر پھر رفتہ رفتہ نصیحت اثر دکھانے لگتی ہے اور بعض دفعہ ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ اس کی زندگی پر ایک زلزلہ طاری ہو جاتا ہے اچانک اس کے دل کے پتھر ٹوٹتے ہیں اور ان سے رحمت کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں پس یہ فطرت کا نظام ہے جو خدا نے پیدا فرمایا ہے۔اس آیت سے یہ نصیحت پکڑیں کہ اگر اللہ ہی کی رحمت ہے جو محمد رسول اللہ بناتی ہے تو اسی کی رحمت سے ہم پھر وہ فیض کیوں نہ پائیں جو محد رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوا تھا۔پس وہ فیض پائیں دعاؤں کے ساتھ اور دعائیں وہ مقبول ہوتی ہیں جو حقیقت میں سچائی کے ساتھ کی جائیں۔پس اگر کوئی بد خلق ہے اور اس کو احساس پیدا ہو گیا ہے کہ میں بدخلق ہوں اور مجھے اختیار نہیں ہے تو ایسا شخص ضرور دعاؤں کی طرف متوجہ ہوگا اور بعض ایسے مجھے لکھتے بھی ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم جب غصے کی حالت میں ہوتے ہیں ہمیں اپنے اوپر اختیار ہی نہیں رہتا، ہم بد تمیزیاں کرتے ہیں، اپنے بڑوں سے بھی بدتمیز ہو جاتے ہیں ، اپنی بیویوں پر بھی ظلم کر جاتے ہیں اگر شادی شدہ ہوں، اپنے گردو پیش کو اپنی سختی کا نشانہ بناتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں کہ ہم نے کیوں ایسا کیا مگر اس وقت ہم مغلوب ہو جاتے ہیں۔یہ جو صورت ہے اس میں دو قسم کے محرکات ہیں موجبات ہیں جن پر نظر رکھنی چاہئے ایک تو بیماری ہے اور یہاں جو بات ہو رہی ہے یہ طبعی بیماریوں کی بات نہیں ہو رہی مگر یہ بات یہاں سے