خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 17

خطبات طاہر جلد 16 17 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء ذریعہ ہے۔ساری انسانی تہذیب کی تعدیل، اس کی ترتیب، اس کو ایسے معیار پر مناسب انداز میں قائم کر دینا جس سے پھر حسن ضرور پھوٹا کرتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو جماعت احمدیہ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور اس پہلو سے وہ لوگ جو یہ شکایت کرتے ہیں کہ پندرہ سال ہم نے یہ دیکھا اور اب معاملہ ہاتھ سے نکل گیا ہے اس کا کچھ کریں۔میں ان کو سمجھا دیتا ہوں اور اب بھی متنبہ کرتا ہوں کہ آپ لیٹ ہو گئے ہیں۔جب آپ غافل رہے دیکھنے کے باوجود، تو اب جب معاملہ ہاتھ سے نکل گیا اب میں کیا کر سکتا ہوں۔حضرت نوح اس وقت کیا کر سکتے تھے جب بیٹا غرق ہو رہا تھا۔ایک نبی کا بیٹا ایک ایسے عذاب میں غرق ہو جائے جو ظالموں کے اوپر خدا تعالیٰ کی آخری تقدیر ہو جس سے پھر بچ کے کوئی نکل نہیں سکتا کتنا خوفناک واقعہ ہے۔مگر اس وقت حضرت نوح نے بھی یہ دعا نہیں پھر کی کہ اے اللہ پھر اس کی اصلاح کر دے اگر عمل غیر صالح ہے تو اس کا عمل صالح بنادے کیونکہ حضرت نوح کی فراست جانتی تھی کہ جو کچھ بھی ہوا اب وقت گزر چکا ہے۔اس لئے اس وقت انہوں نے توجہ کی استغفار کی طرف اور خدا تعالیٰ سے عرض کیا کہ پھر تو مجھے معاف کر دے جو کچھ مجھ سے ہوا غلطی سے ہو گیا۔تو اس وقت پھر نظام جماعت کو متوجہ کرنا بالکل لغو حرکت ہے ، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔بعض عورتیں کہتی ہیں ہمارا خاوند یہ حرکتیں کرتا ہے، یہ حرکتیں کرتا ہے تمیں سال ہم نے صبر سے گزارہ کیا اب نہیں ہوتا۔تمہیں سال صبر کیا کیا، اپنی زندگی کوخود جہنم میں جھونکا ہے اور جب خطرہ ایسا پیدا ہوا ہے کہ طلاق تک نوبت آ پہنچی ہے اب تم متوجہ ہو رہی ہو اور کہہ رہی ہو کہ ہمارے حالات کو ٹھیک کرو۔یہ نفس کے دھو کے ہیں۔اس خاوند کی بدکرداریوں کے باوجود اس کے ساتھ شیر وشکر ہو کے رہنا یہ بتا تا ہے کہ وہ اس پر راضی تھی اور اس کے باوجود یہ بات ان کو زیادہ پیاری تھی کہ رشتہ رہے اور کوئی فرق نہیں پڑتا جو مرضی کرتا رہے۔اگر یہ صورت تم نے پندرہ ، ہیں ، پچیس سال تک قائم رکھی تو جو نتیجہ نکلے گا اس کے تم ذمہ وار ہو۔اور یہ قانون تمہیں یاد ہی نہیں رہا کہ جس کی غلامی کی دعویدار ہو اس کے متعلق اللہ فرماتا ہے۔وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى (الضحی: 5) تیرا تو ہر لحہ گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہے اور آپ کا ہرلمحہ بدتر ہوتا ہوا نظر آرہا تھا آپ کو اور فکر نہیں کی کوئی توجہ نہیں کی۔تو اس پہلو سے اپنے گزشتہ سال کا بھی موازنہ کریں اور تفصیل سے اپنے خاندانی حالات پر