خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 215

خطبات طاہر جلد 16 215 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء دکھاتی ہیں کہیں نہ مانگنا خدا تعالیٰ کے قریب تر کر دیتا ہے کہیں مانگنا خدا تعالیٰ کے قریب تر کر دیتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی ذات میں یہ دونوں جلوے بڑے عظیم، حیرت انگیز صفائی سے ہمارے سامنے آتے ہیں مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے انشاء اللہ آئندہ کسی خطبے میں اس مضمون پر جو ایک علیحدہ مضمون ہے تفصیلی بعد میں روشنی ڈالوں گا۔اس وقت میں اس مضمون کی طرف واپس آرہا ہوں کہ شیطان کی عبادت کی پہچان اب کیا ہوگی۔پہلے اپنی ربوبیت کی حفاظت کریں یعنی اپنی رزق کی تمنا، اپنی دولت کی تمنا، اپنی جائیدادوں کی تمنا یہ سارے ربوبیت سے تعلق رکھنے والے مضامین ہیں ان کی نگرانی کریں اور حفاظت کریں۔جہاں جہاں آپ غیر اللہ سے اپنے آپ کو چھڑا کر اللہ کی ربوبیت کے سائے تلے لے آئیں گے وہاں لازماً آپ کو خدا تعالیٰ کی عبادت ایسی نصیب ہوگی کہ ہر عبادت کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا جلوہ آپ پر پہلے سے زیادہ روشن ہوگا اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے نتیجے میں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا مضمون ایک قانون قدرت کی طرح جاری ہوگا اس میں پھر کوئی روک پیدا ہو ہی نہیں سکتی لیکن سب سے بڑا فتنہ ربوبیت ہی کا فتنہ ہے یعنی غیر اللہ کو رب بنانا۔پس فرمایا ہم نے تمہیں کہا نہیں تھا، عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کو رب نہ بنانا، یہ مطلب ہے اس کی عبادت نہ کرو اور تم اس کو رب بنا بیٹھے ہو اور جب اس کو رب بنا بیٹھے ہو تو تمہارا سارا معاشرہ دکھوں سے بھر گیا ہے۔یہ وہ عَد و مبین ہونے کا مضمون ہے۔اب آپ دیکھیں جتنے بھی دنیا میں مسائل ہیں، جتنی مصیبتیں ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ رزق کے حصول کی پاگلوں والی تمنا جو پھر کوئی بھی اخلاقی قدر اپنی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتی۔چور چوری کرتا ہے اور یہ رزق کی تمنا ہے اصل میں اس نے شیطان کو رب بنا لیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں کرنی ، اس نے کہا میں نے تو رزق حاصل کرنا ہی ہے وہ جب کسی غیر کا دروازہ توڑتا ہے تو شیطان کے دروازے تو ڑ کر اس کے گھر میں داخل ہوتا ہے عملاً ، یعنی جہاں تک اس کی روح کا تعلق ہوتا ہے وہ شیطان کو اپنا لیتا ہے اور یہ تمنا جتنی بڑھتی چلی جائے اتنا زیادہ سوسائٹی ظلم سے بھرتی چلی جاتی ہے۔اس کا اگلا قدم ڈاکہ ہے، اگر گھر والے نے دیکھ لیا تو یہ خوف کہ مجھے پہچان نہ لیا ہو اس کے قتل پر اس کو آمادہ کر دیتا ہے۔پھر یہ اور ظلم بڑھتا ہے تو گلیاں محفوظ نہیں۔آتے جاتے یہاں تک بھی ہوتا ہے بعض معاشروں میں، امریکہ میں مثلاً واشنگٹن ،