خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 213
خطبات طاہر جلد 16 213 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء سے تو بہ کئے بغیر تم عباداللہ کی صف میں داخل ہو نہیں سکتے اور تمہاری دعائیں قبول ہی نہیں ہوں گی۔اب اس پہلو سے جب آپ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو دوبارہ دہرا کے دیکھیں تو اور عظیم مضمون آپ کو دکھائی دینے لگیں گے۔جب آپ کہتے ہیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تو اس میں ایک تو یہ عجز کا اظہار ہے ہم عبادت تیری کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو صفات تو نے پیش فرمائی ہیں اگر کوئی یقین کے ساتھ ان کو سچا مان جائے تو اس کے سوا چارہ ہی نہیں رہا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں کوئی احسان نہیں ہے اللہ تعالیٰ پر کہ ہم نے فیصلہ کر لیا تیری عبادت کریں گے۔یہ کہنے کا طریق ہے کہ تو نے اور چھوڑا کیا ہے جس کی عبادت کریں جب رب بھی تو ، رحمن بھی تو ، رحیم بھی تو اور مالک بھی تو ، تو ہم پاگل ہو گئے ہیں جو کسی اور کی طرف جھکیں عبادت کے لئے کوئی رہا ہی نہیں باقی۔تو اِيَّاكَ میں یہ نفی جو غیر اللہ کی ہے، لا الہ کی یہ کامل ہونی چاہئے۔جتنی یہ کامل ہوگی۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا اتنی ہی مقبول ہوگی۔اس مقصد کو سمجھے بغیر جب آپ دعائیں کرتے ہیں تو بسا اوقات سمجھ ہی نہیں آتی ، دعا ئیں تو ہم بڑی کر رہے ہیں مگر قبول نہیں ہور ہیں۔اے خدا ہم تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تجھ سے مدد چاہتے ہیں، ادھر سے جواب ہی نہیں ملتا۔ساری عمر کی عبادتیں اسی طرح غیر اللہ کے لئے وقف رہتی ہیں یا بے ثمر رہ جاتی ہیں، پھل نہیں لگتا اس لئے کہ عملی زندگی ان کی شیطان کی عبادت کر رہی ہوتی ہے۔واقعاتی طور پر ان کا رزق غیر اللہ سے حاصل کیا جاتا ہے ان معنوں میں، ویسے تو سب رزق اللہ ہی سے ملتا ہے، کہ وہ خدا تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے رزق کے ان ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جائز نہیں ہیں۔جہاں بھی یہ بات داخل ہوگی یا جب بھی کسی آزمائش کے وقت انسان یہ فیصلہ کرے کہ ٹھیک ہے میری بلا سے، اللہ کو پسند ہو یا نہ ہو میرا رزق یہاں سے مل رہا ہے میں ضرور لوں گا ، و ہیں اس کا ربوبیت سے رشتہ کٹ گیا۔پھر وہ جب نمازیں پڑھے گا تو اس کی نمازوں میں مزہ آرہی نہیں سکتا۔وہ اس وہم میں مبتلا ہے کہ میں تو بڑی دفعہ کہتا ہوں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ ، إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ الله مدد ہی نہیں کرتا میں کیا کروں۔اس لئے مدد نہیں کرتا کہ تم اس راز کو سمجھ ہی نہیں سکے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی سچائی اس بات کو لازم کرتی ہے کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا قبول ہو اور یہ جو مضمون ہے اتنا تفصیل کے ساتھ ، اتنا گہرائی کے ساتھ روزمرہ صادق آتا ہے کہ آدمی اگر آنکھیں کھول کر دیکھے تو