خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 212
خطبات طاہر جلد 16 خوب کھول کر بیان فرما دیئے ہیں۔212 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء تو اپنی سوسائٹی کی حفاظت کریں، اپنی سوسائٹی سے اپنے بچوں کو بچائیں، اپنی بیویوں کو بچائیں، بیویاں اپنے خاوندوں پر نگاہ رکھیں اور ہماری سوسائٹیاں شیطان کے دوستوں سے کلیڈ کٹ جانی چاہئیں اور الگ ہو جانی چاہئیں۔یہ ایک طریق ہے بیچنے کا، مگر اور بھی بہت سے طریق اسی آیت نے ہمیں سکھا دیتے ہیں۔الرَّحْمنِ ، رَبِّ الْعَلَمِينَ، اللہ ہے جب بھی ایک انسان خدا کی ربوبیت کو چھوڑ کر غیر اللہ کو رب سمجھتا ہے تو خدا تعالیٰ نے ربوبیت کی جتنی شرائط مقررفرما رکھی ہیں ان سب کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہ سب سے بڑا محرک شیطان کی عبادت کا ربوبیت ہے دنیا میں سب سے بڑے فتنے اقتصادی فتنے ہیں۔بڑی بڑی قومیں جو دنیا میں نا انصافی کرتی اور دوسری قوموں پر ظلم کرتی ہیں، اپنی ذات میں بعض دفعہ بڑی مہذب ہوتی ہیں۔وہ سیاست دان جو یہ ظالمانہ فیصلے کرتے ہیں کہ فلاں قوم کے اقتصادی وسائل کو کاٹ ڈالوا گر وہ تمہارے ہاتھ نہیں آتے ، وہ اپنے روزمرہ کے معاملات میں بہت با اخلاق اور شریف النفس ، ادب سے بات کرنے والے اور آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ دیکھو کتنی سلجھی ہوئی تو میں ہیں لیکن جہاں ربوبیت کا معاملہ آیا وہاں ان کا شیطان کو رب قبول کر لینا اتنا کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ کسی دیکھنے والے کے لئے شک کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔تمام دنیا کی بڑی بڑی قوموں پر نظر ڈالیں وہ کتنے دعوے کرتے ہیں اپنی عظمتوں کے، اپنی تہذیب و تمدن کی فضیلت کے ، اپنے اعلیٰ اخلاق کے مگر جہاں بھی ربوبیت کا مسئلہ ہوگا وہ شیطان کے سامنے سر جھکا ئیں گے، ہرگز کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ اللہ ان سے کیا تقاضے کر رہا ہے۔اگر قوم کے راہنمار بو بیت یعنی رزق کے معاملے میں قوم کے مفاد پر کسی اور قوم کے مفاد کو اس لئے ترجیح دیں کہ اللہ یہ چاہتا ہے تو ان کو اس منصب پر رہنے ہی نہیں دیا جائے گا اس لئے کچھ ان کی بے اختیاری بھی ہے، ساری قوم شیطان کی عبادت کر رہی ہے اور یہ عام طور پر انسان کا حال ہو چکا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دعوئی میری عبادت کا کرو اور مجھ سے توقع رکھو کہ میں اس کے فوائد تمہیں پہنچاؤں اور تمہارا ہر فعل شیطان کی عبادت میں ڈھلا ہوا ہو اور تم مجسم اس کے بندے بن چکے ہو تو بیک وقت ایسی باتیں کیسے ممکن ہیں، دوحکومتوں کے سامنے بیک وقت سجدہ نہیں ہوسکتا یا اس کو کرو گے یا اس کو کرو گے۔پس عبادت کا مضمون شرک کے رد کرنے سے تعلق رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ شرک