خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد 16 208 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء آیات اشارہ کر رہی ہیں بلکہ کھلم کھلا انگلی اٹھا کر دکھا رہی ہیں۔جب آپ سورۃ فاتحہ کے اس حصے پہ پہنچتے ہیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہم تیری عبادت اور صرف تیری عبادت کرتے ہیں تو کیوں یہ فیصلہ دل میں کرتے ہیں۔اس وجہ سے کہ اس سے پہلے خدا تعالیٰ اپنا ایک تعارف کروا چکا ہے اور وہ تعارف ہے کہ وہ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ ہے، وہ الرَّحْمَنِ ہے، وہ الرَّحِيمِ ہے، وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے۔یہ چار صفات اگر کسی وجود میں ہوں تو بے اختیار اس کی عبادت کے لئے روح آمادہ ہوتی ہے اور ان چار صفات کا علم کافی نہیں جو محض ذہن سے تعلق رکھتا ہو۔ان چار صفات کے ایسے علم کی ضرورت ہے جو حق الیقین ہو اور کامل طور پر اعتماد ہو کہ ہاں یہی ہے۔اگر یہ چارصفات آپ کو کسی جگہ دکھائی دیں گی تو لازماً روح عبادت کرے گی اس وجود کی۔اب شیطان کو پہچاننے کا طریقہ سمجھا دیا۔فرمایا اگر تم رحمانیت میں بھی شیطان کی طرف جھک رہے ہو، غیر اللہ کی طرف جھک رہے ہو، اگر تم رحیمیت میں بھی غیر اللہ کی طرف جھک رہے ہو، اگر تم ربوبیت میں سب سے پہلے کہنا چاہئے تھا، ربوبیت میں غیر اللہ کی طرف جھک رہے ہو ، رحمانیت میں، رحیمیت میں اور اسی کو مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ سمجھتے ہو تو پھر لا ز ما تم اس کی عبادت کرو گے۔پھر تم اس مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتے جہاں سے روح کی گہرائی سے یہ آواز اٹھے اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور اس میں شیطانی صفات کو منفی انداز میں اس طرح پیش فرما دیا کہ ربوبیت جہاں نہیں ہے وہاں ربوبیت رکھ دینا، رحمانیت جہاں نہیں ہے وہاں رحمانیت تصور کر لینا، رحیمیت جہاں نہیں ہے وہاں اس مقام کو رحیمیت کا مقام سمجھ بیٹھنا، جہاں ملکیت نہیں اور مالکیت نہیں وہاں ملکیت اور مالکیت کو تصور میں لانا اور اس پہلو سے اگر تم کرو گے تو لازماً مشرک بنو گے اور عبادت کا رخ یکسر بدل جائے گا اور شرک کی سب سے خطرناک تعریف یہ ہے جو اس آیت میں کی گئی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم سے میں نے عہد نہیں لے رکھا تھا کہ شیطان کی عبادت نہیں کرو گے۔پس اس عبادت کے لفظ کے ساتھ یہ عہد لینا کہ شیطان کی عبادت نہیں کرو گے اس نے اس مضمون کو خوب کھول دیا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ خدا کو کہو اور رب اور رحمان اور رحیم اور مالک شیطان کو سمجھو یہ وہ عبادت ہے جس سے ہم نے تمہیں روکا تھا۔اور لفظ أَعْهَدُ اِلَيْكُمْ کا محاورہ عام عہد سے مختلف ہے۔ایک عہد ہوتا ہے جس میں دو طرف شریک ہوتے ہیں اس کو معاہدہ کہا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جو انبیاء سے میثاق لئے