خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد 16 195 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء فرمایا تمہاری یہ دعا جب دنیا میں قبول ہوگی تو اسی دعا نے تمہاری جنت اس دنیا میں بنانی ہے اور یاد رکھنا اگر یہاں جنت نہیں بنا سکے تو وہاں بھی نہیں ملے گی، وہم ہے محض۔پس یہاں جنت حاصل کر لینا اور وہ جنت گھر کی جنت ہے، گھر میں تمہارے تعلقات اگر جنت نشان ہو جائیں، اولاد نیک ہو، ماں باپ کے تعلقات آپس میں اچھے، بچوں سے اچھے تو اس کے نتیجے میں پھر وہ غرفے ملیں گے جن کو اللہ تعالی بالا ئی غرفے کہتا ہے۔وہ ایسا مقام ہے جہاں یہ ساری لذتیں پہلے سے بہت زیادہ آگے بڑھا دی جائیں گی اور تحائف ایک دوسرے کو دیں گے۔اب جنت میں تو ہر چیز اپنی مرضی سے ملتی ہی ہے تحفوں کا کیا تعلق ہے وہاں تحفوں کا تعلق یہ ہے کہ وہاں یہ بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک دوسرے سے چھین چھین کے بھی کھائیں گے۔تو جہاں سب کچھ بے شمار مل رہا ہو وہاں چھیننے کا کیا موقع ، تحفے کی بات تو بعد میں آئے گی اس لئے کہ محبت کے اظہار ہیں صرف یہ۔ایک انسان کسی پیارے کے ہاتھ سے لقمہ چھین کے بھاگ جائے تو یہ تو نہیں کہ اس کو بھوک لگی ہوئی تھی ، ضرورت پڑی ہوئی تھی وہ اپنے محبت کے اظہار کے لئے کہ مجھے تمہارے ہاتھ کا لقمہ بھی پیارا لگتا ہے اور میں نے لے لیا ہے یہ اور تحائف اس لئے دیئے جاتے ہیں کہ وہ جس کو دیئے جاتے ہیں اس کی ضرورت کا خیال نہیں ہوتا بلکہ اپنی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔چنانچہ نماز میں جب روزانہ آپ تحیات میں بیٹھ کے کہتے ہیں التحیات اللہ تو تحیات اللہ کے لئے اللہ کو ضرورت ہے کوئی تحفوں کی ؟ جس نے سب کچھ دیا ہے اس کو آپ کیا تحائف دیں گے۔آپ اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں اور یہ تحفے کی پہچان ہے جب کسی کی ضرورت کے لئے دیا جاتا ہے تو وہ صدقہ بھی ہو جاتا ہے، خیرات بھی ہو جاتی ہے، بدلہ بھی ہو جاتا ہے، ذمہ داری کی ادائیگی بھی ہے لیکن تھنے کی پہچان اپنے دل سے ملتی ہے۔آپ کے دل میں یہ ضرورت پیدا ہوئی تھی کہ نہیں کہ جس سے ہمیں محبت ہے اس سے محبت کے اظہار کے لئے اس کو کچھ پیش کریں۔اگر اس وجہ سے چیز اٹھی ہے تو پھر یہ تحفہ ہے ورنہ تحفہ نہیں کوئی نام اور رکھ دیں۔تجارت کہیں، صدقہ خیرات کہیں جو بھی کہیں تحفہ نہیں بنے گا۔تو اللہ کے لئے تحفہ کی شرط یہ ہے التحیات اللہ کہ دل میں تمنا اٹھا کرے کہ ہم اللہ کو خوش کریں اور دل چاہے کہ کچھ نہ کچھ تو ہم خدا کے حضور پیش کریں تو اس کے لئے پھر طیبات کی تلاش ہو، صلوات کی تلاش ہو کبھی نمازیں پڑھ کے خوش کریں، کبھی خدا کی راہ میں صدقے دے کر خوش کریں،