خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 179

خطبات طاہر جلد 16 179 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء ایک ہے نا انصافی کسی کا حق لیا کسی اور کو دے دیا یا اپنا لیا اور یہ لفظ شرک کے تعلق میں سب سے زیادہ قوت کے ساتھ اطلاق پاتا ہے سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اطلاق پاتا ہے کیونکہ شرک میں یہ دونوں باتیں بڑی نمایاں طور پر پائی جاتی ہیں، جہالت حد سے زیادہ اور ظلم بھی حد سے زیادہ یعنی نا انصافی بھی حد سے زیادہ۔تو فرمایا وَ الَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ الهَا أَخَرَ اور آگے دیکھیں پھر انصاف کا مضمون وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ یعنی جو کسی کے اموال پر ہاتھ نہیں ڈالتا، جو کسی کے حقوق کا خیال رکھتا ہے وہ ناحق جان کیسے لے سکتا ہے۔کہتا ہے یہ عِبَادُ الرَّحْمٰن وہ ہیں جو کبھی بھی ناحق کسی کی جان نہیں لیتے إِلَّا بِالْحَقِّ سوائے حق کے جو خدا بخشتا ہے کیونکہ مالک وہی ہے۔جب حق ان کو کہے تو پھر حق کے تقاضے پورا کرنا ان کا فرض ہے کیونکہ حق کو چھوڑنا بھی تو گناہ ہے۔تو جہاں حق یہ کہے کہ یہاں جان لینا لازم ہے یا حق یہ کہے کہ اجازت ہے دونوں صورتوں میں جہاں مجاز بنائے گئے ہو چاہو تو جان لو، چاہو تو نہ لو دونوں صورتیں برابر ہو جائیں گی۔جہاں حق ہو کہ تم نے لازماً جان لینی ہے یہاں، وہاں تمہارا فرض ہے کہ جان لو۔اب جب مسلمان مجاہدین الله غیر مسلم طاقتوں سے نبرد آزما ہوتے رہے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جہاد کے دوران ، جو جہاد بالسیف تھا یعنی اس جہاد کے دوران یہ اجازت ہی نہیں تھی کہ جس کی جان لے سکو اس لڑائی کے دوران اس کی جان نہ لو۔چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق یہ روایت ہے بڑے نرم دل تھے بات بات پر رونا آجاتا تھا، بے حد شفیق لیکن جہاد کے دوران ان کا بیٹا جو اس وقت تک ابھی مومن نہیں ہوا تھا ایمان نہیں لایا تھا وہ ان کے مقابل پر لڑ رہا تھا۔ایک موقع پر ان کے بیٹے کو یہ موقع ملا کہ حضرت ابو بکر صدیق کو قتل کر سکتا لیکن اس نے نہیں کیا اور بعد میں اپنی طرف سے احسان کے طور پر یہ بتانے کے لئے کہ دیکھیں کیسا فرمانبردار بیٹا ہوں یہ کہا اپنے ابا کو مخاطب کرتے ہوئے کہ آپ کو یاد ہے وہ جنگ جس میں آپ بھی شریک تھے لیکن مسلمانوں کی طرف سے اور میں مشرکوں کی طرف سے شامل تھا۔ایک ایسا موقع تھا کہ میں چاہتا تو آپ کو قتل کر سکتا تھا مگر میں نے نہیں کیا۔حضرت ابو بکڑ نے جواب دیا خدا کی قسم اگر میں وہاں ہوتا اور تم میرے مقام پر ہوتے تو میں تمہیں ضرور قتل کر دیتا۔ناممکن تھا کہ میں تمہیں چھوڑ دیتا۔یہ ہے قتل بالحق۔بعض قتل میں حق کا تقاضا ہے وہ