خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 178
خطبات طاہر جلد 16 178 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء فرمائے گا اس کی بنیادی صفات میں سے کوئی بھی نہیں بھولتی۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قطعا یہ انسان کا کلام نہیں ہے ورنہ تئیس (23) سال کے عرصے میں پھیلی ہوئی آیات ان بنیادی شرائط کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں جو ایک مضمون سے تعلق رکھتی ہیں، یہ ناممکن ہے۔تو ان تمام آیات میں اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو ایک توازن دکھائی دے گا اور عِبَادُ الرَّحْمنِ بننے کے لئے وہ تو ازن شرط ہے اور قیام عدل کے بغیر عِبَادُ الرَّحْمٰنِ بن سکتے ہی نہیں۔رحم عدل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔عدل ہوگا تو رحم شروع ہوگا۔عدل ہے نہیں تو رحم کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔تو رحمن سے تعلق جوڑنے کی باتیں کرو، اتنے بلند ارادے رکھو اور دنیا میں بے انصافی سے کام کرتے پھرو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔تو یہ دوسرا بڑا عظیم پیغام ہے اور خرچ میں بھی ایک انصاف ہے۔جو شخص خرچ میں بہت زیادہ دکھاوے کے طور پر یا طاقت سے بڑھ کر خرچ نہیں کرتا اور جہاں خرچ کرنا چاہئے وہاں ہاتھ روکتا نہیں اس کی بہترین زندگی گزرتی ہے اور ایسے شخص غریب بھی ہوں تب بھی وہ اچھے رہتے ہیں اور ان صفات سے عاری امیر بھی ہوتو وہ ضرور برباد ہو جایا کرتا ہے۔پس محض روپے کی کمی یا زیادتی آپ کو سکون نہیں بخش سکتی۔قرآن کریم کی اس آیت میں جو مضمون بیان فرمایا گیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ اپنے خرچ میں توازن رکھا کرو۔خدا نے جتنا دیا ہے اسی حد تک ، اسی نسبت سے خرچ بھی کرو اور اسی نسبت سے ہاتھ بھی روکو۔جہاں خدا نے رکنے کے لئے کہا ہے رک جاؤ۔جہاں خرچ کرنے کے لئے فرمایا ہے خرچ کرو مگر توازن کے ساتھ۔تو جو اپنی طاقت کے اندر رہتے ہوئے خرچ کرتا ہے وہ ہر قسم کے نقصانات اور دکھوں اور مصیبتوں سے بچتا ہے۔وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ الهَا أَخَرَ اور یہ بھی انصاف کے تقاضوں میں سب سے اہم تقاضا ہے کہ اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔قرآن کریم شریک ٹھہرانے کو ظلم کہتا ہے جو عدل کے منافی ، برعکس مضمون ہے۔پس جہاں بھی قرآن کریم میں شرک کی برائیاں بیان ہوئی ہیں آپ دیکھ لیں اٹھا کر ، کھول کر دیکھ لیجئے وہاں آپ کو نا انصافی کا ، عدل کے فقدان کا یا ظلم کا مضمون دکھائی دے گا۔جو خدا کا ہے خدا کو دو یہ انصاف ہے۔فرضی بتوں کو وہ دے دو جو خدا کا ہے یہ تو بہت بڑی جہالت ہے اور ظلم ، نا انصافی ہی کے معنوں میں نہیں بلکہ اندھیروں کے معنوں میں بھی حد سے زیادہ ایک قبیح صورت اختیار کر جاتا ہے۔پس ظلم دونوں معنے رکھتا ہے ایک ہے اندھیرا، تاریکی ، جہالت اور