خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 174

خطبات طاہر جلد 16 174 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء سے نہیں وہ بجز ہی سے ظاہر ہوگا، تو یہ صفات رحمن کے تعلق میں اگر انسان اپنے اندر پیدا کر لے تو ان کا پیدا کرنے کا آغاز مشکل نہیں اس کو اپنے آخری نقطہ عروج تک پہنچانا مشکل ہے لیکن اس کے حل بھی قرآن کریم نے پیش فرمائے ہیں۔تو سب سے پہلے اپنا یہ امتحان ہمیں شروع کر دینا چاہئے کہ ہم رحمن خدا کے نام پر کوئی دھبہ تو نہیں بن جاتے۔رحمن خدا جس کے غلام کہلا کے پھر رہے ہیں دنیا میں اس کی شان اور اس کی عزت پر کوئی حرف تو نہیں لاتے اور اس پہلو سے بہت ہی انکساری کے ساتھ زمین پر وقت گزارتے ہیں عجز کے ساتھ وقت گزارتے ہیں کہ ہماری وجہ سے کسی طرح ہمارے آقا کے نام پر کوئی حرف نہ آئے اور اس کی طرف ہمارے عبد کا منسوب ہونا جائز قرار ٹھہرے، ناجائز نہ بن جائے۔یہ لوگ سلامتی کا مجسم پیغام بن جاتے ہیں اور جو دن کو اس طرح چلتے ہیں وہ راتوں کو سو کر بسر نہیں کیا کرتے کہ سارا دن تو وہ لوگوں کے سامنے ظاہر ہوں، بجز کے ساتھ چلیں ، سلامتی کے پیغام پہنچاتے پھریں، گھر آئیں تو آرام سے لمبی تان کے سو جائیں۔اس کا مطلب ہے کہ جو وہاں تھا وہ دکھاوا تھا۔وہ کسی رحمن خدا کی خاطر نہیں تھا کیونکہ جب کوئی نہیں دیکھ رہا تو ان کا رحمن خدا سے تعلق ختم ہو گیا۔اس لئے دوسری آیت نے اس مضمون کو پوری طرح مکمل حفاظت دے دی ہے کہ عبادالرحمن راتوں کو جب کوئی ان کو نہیں دیکھ رہا ہوتا اپنی رحمانیت سے اخذ کی ہوئی صفات کی حفاظت کرتے ہیں اور دن کو جو لوگوں کے سامنے جھکتے ہیں وہ خدا کی خاطر جھکتے ہیں ان کو سجدے نہیں کیا کرتے۔جہاں تک روح کے سجدے کا تعلق ہے، جہاں تک حقیقی اطاعت کا تعلق ہے فرمایا وَالَّذِينَ يَتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدً اقَ قِيَامًا یہ وہ لوگ ہیں جو راتیں جاگ جاگ کر ، خدا کے حضور سجدے کرتے ہوئے اور احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر گزار دیتے ہیں۔تو صاف پتا چلا کہ ان کا دنیا کے سامنے جھکنا ان کی بزدلی یا ذلت کے نتیجے میں نہیں ہے، رحمن خدا سے تعلق کے نتیجے میں ہے۔اور جب اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو سجدہ اسی کو کرتے ہیں، کسی غیر اللہ کو نہیں کرتے اور جب اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو کامل احترام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔اور یہ کہتے ہیں اس وقت وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا یہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے جہنم کا عذاب ٹال