خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 170

خطبات طاہر جلد 16 170 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَاصُمَّا وَعُمْيَانًا وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا أُولَيكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَ سَلَمَّالٌ خَلِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرٌّ أَوْ مُقَامًا قُلْ مَا يَعْبَوا بِكُمْ رَبِّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا (الفرقان: 7864) پھر فرمایا: گزشتہ چند خطبات میں قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر: 54) کی آیات کے حوالے سے تو بہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کا مضمون بیان کیا جا رہا ہے جس کا آخری نتیجہ یہ بیان فرمایا گیا کہ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا الله تعالى تمام تر گناہوں کو کلیہ بخشنے کی طاقت رکھتا ہے اور اگر وہ تمہاری تو بہ کو قبول فرمالے تو پھر بے انتہا فضل ہیں جو تم پر نازل ہوں گے اور اللہ کو تم غفور اور رحیم پاؤ گے، بخشنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا۔اس ضمون کے حوالے سے چند باتیں میں گزشتہ خطبات میں پیش کر چکا ہوں۔اب میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عِبَادُ الرَّحْمٰن کی اصطلاح قرآن کریم نے دراصل ایسے ہی بندوں کے لئے استعمال فرمائی ہے جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔قُل يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ۔اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا، دراصل رحمانیت کی طرف حرکت کرنے کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔اگر مغفرت چاہتے ہو، اگر تمام گناہوں سے کلیۂ نجات چاہتے ہو تو خدا کی رحمت سے تعلق جوڑے بغیر یہ ممکن نہیں ہے اور جب خدا کی رحمت سے تعلق جوڑتے ہیں تو عِبَادُ الرَّحْمنِ بنتے ہیں ، رحمان خدا کے بندے اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے کہ آپ سمجھ بیٹھیں کہ ہم نے توبہ کر لی اب ہم رحمان خدا کے بندے بن گئے ہیں۔قرآن کریم نے تفصیل سے رحمان خدا کے بندوں کی علامتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ہر ایک ہمارے لئے کسوٹی ہے اگر وہ ہم میں پوری ہے یا ہم اس کسوٹی پر پورا اترتے ہیں تو رحمان خدا کے بندے ہیں اگر نہیں تو محض خیالات کی جنت