خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 11

خطبات طاہر جلد 16 11 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء نمازیں پڑھتے ہوئے اکثر غفلتوں میں ڈوبا رہتا ہے اس کو سوچنا چاہئے کہ یہ نماز بھی ایسی ہے جس میں رس نہیں پیدا ہوا اور زور لگانا چاہئے کہ کسی طرح یہ غفلت کی حالت جاتی رہے۔تو ایک مستقل جد و جہد ہے اور اس کے نتیجے میں اگر قدم زیادہ تیز رفتاری سے آگے نہ بڑھے تو کچھ نہ کچھ آگے بڑھنا چاہئے۔یہ وہ موازنہ ہے جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ اپنے بہی کھاتے کھولو اور دیکھو کیا ہوا ہے تو پچھلے سال کی جو بھی اپنی کیفیت ہے اس پر نظر رکھو اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انفرادی طور پر تو ممکن ہی نہیں کہ میں سمجھا سکوں کہ کون کیا کیا کرے مگر ایک پیمانہ جو عالمی پیمانہ ہے وہ آنحضرت نے کا پیمانہ ہے اس پر اپنے حالات کو چسپاں کرتے ہوئے ہم نے یہ دیکھنا ہے اگر ہمارا ہرلمحہ گزرے ہوئے سال کے ہر لمحے سے آئندہ بہتر نہیں ہوسکتا تو کم سے کم ہر منٹ اگر بہتر ہوسکتا ہے تو وہ بہتر کیا جائے، گھنٹہ بہتر ہوسکتا ہے تو گھنٹہ بہتر کیا جائے ، ہفتوں کا حساب کر لو، مہینوں کا حساب کر لو۔کچھ تو کرو، کچھ تو ایسی مماثلت ہو جو خادم کی اپنے مخدوم سے ہوا کرتی ہے ، غلام کی اپنے آقا سے ہوتی ہے۔پس لا زم ہے کہ مہینے نہیں تو کم سے کم ہر سال کچھ نہ کچھ آگے بڑھے۔کہاں بڑھے گا ، کن کن قدموں میں وہ پہلے سے زیادہ سرعت سے وہ سفر اختیار کرے گا یہ فیصلہ ہے جو ہر انسان نے اپنی توفیق کے مطابق کرنا ہے۔اور اس پہلو سے جن اخلاق کی طرف میں نے آپ کو متوجہ کیا تھا میں ان کی طرف مختصراً پھر واپس لوٹتا ہوں اور آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک حساب عبادت کا کرلیں اور ایک اخلاق کا۔یہ دو حساب کر لیں اور اپنے لئے تعلیم معین کریں، اپنے لئے خود فیصلہ کریں کہ اگلے سال میں میں نے ان دونوں چیزوں میں کیا بہتری کرنی ہے۔نمازوں کی حالت میں بہتری کے لئے یہ لازم ہے کہ انسان اپنی نمازوں کے وقت ان شیطانوں کی شناخت کرے جو نماز میں دخل انداز ہوتے ہیں۔وہ تجارت کے شیطان ہیں، مقدموں کے شیطان ہیں ، بیوی بچوں یا دیگر لوگوں کی محبت کے شیطان ہیں غرضیکہ جتنی بھی قسموں کے شیطان ہیں وہ الگ الگ صورتوں میں الگ الگ انسانوں پر قابض ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ایک، بعض دفعہ دو، بعض دفعہ دسیوں شیطان اور ان کی شناخت کے بغیر آپ ان کے خلاف جوابی کارروائی کیسے کر سکیں گے۔تو کسی دن غور کر کے دیکھیں تو سہی کہ نماز میں کون کون سے رخنے والے خیالات ہیں پھر جو جو بھی خیالات ہیں ان کا کسی چیز سے ربط ضرور ہے جو آپ کو اچھی لگتی ہے۔اس ربط کو اگر وہ نماز میں