خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد 16 151 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء دنیا میں ہوتا ہے اور سامنے ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور اگر یہ حقیقت کھل کر سامنے نہ آتی تو پھر یہ قرآن کریم کا دعویٰ کہ تم اس بندے کی غلامی کرو گے تو تم خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہو سکتے یہ دعویٰ محض ایک دعوئی رہتا اس کا کوئی ثبوت نہ ہوتا۔پس آنحضرت ﷺ نے جو گناہوں کی قبروں میں گڑے ہوئے مردے زندہ کر کے دکھا دیئے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ ہر گناہ بخش سکتا ہے اور ہر گناہ خدا تعالیٰ کی بخشش کے تابع ایسا بخشا جائے گا جیسے اس کا وجود ہی کوئی نہیں تھا ، از سر نو ایک نئی زندگی تمہیں عطا کی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اسی مضمون کے متعلق مزید بیان فرماتے ہیں : انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے۔اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ“ غلام ہوئے بغیر فیض ممکن نہیں ہے اور غلام ہونے کا نام گناہوں سے نجات ہے۔پس یہ خیال کہ گناہوں میں مصروف رہو اور نجات کی توقع رکھو یہ بالکل ایک باطل خیال ہے جس کا ان آیات سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔مراد یہ ہے کہ اگر زندگی میں تمہیں غلامی کی توفیق مل گئی پھر تمہارے پچھلے گناہ خواہ پہاڑوں کے برابر بھی ہوں وہ ایسے ختم کر دئیے جائیں گے، فنا کر دیئے جائیں گے گویا ان کا وجود کوئی نہیں تھا۔اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت ﷺ کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریم ﷺ کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو سب حکموں پر کار بند رہو۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ : 234) پس درود کا تعلق بھی یہ غلامی میں لانے کے لئے ایک بہت ہی اہم تعلق ہے اور درود کا تعلق پھر اسی محبت سے ہوا کرتا ہے جو دراصل ہر مصیبت سے نجات بخشنے والی محبت ہے یعنی اللہ اور رسول کی محبت۔جتنا آنحضرت ﷺ سے محبت ہو اسی قدر دل کی گہرائی سے درود اٹھ سکتے ہیں، اٹھتے ہیں اور